✕
مارکٹس

خلیجی خطے میں رسد کے امکانات بہتر ہونے پر تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں

  • نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 2.01 ڈالر، یعنی 2 فیصد کم ہوکر 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی تیل کی قیمتیں منگل کو دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ خلیجی خطے سے خام تیل کی رسد بڑھنے کے امکانات نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم کردیے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بحال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 10:27 بجے نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 2.01 ڈالر، یعنی 2 فیصد کم ہوکر 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اکتوبر کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے، جن کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 2.50 ڈالر، یعنی 2.61 فیصد کمی کے بعد 93.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔

زیادہ کاروبار والے نومبر کے ڈبلیو ٹی آئی سودوں کی قیمت بھی 2.45 ڈالر، یعنی 2.65 فیصد کم ہوکر 89.92 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

برینٹ نومبر، ڈبلیو ٹی آئی اکتوبر اور ڈبلیو ٹی آئی نومبر کے تینوں سودوں کی قیمتیں 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئیں۔

ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔

عہدیدار کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کو امریکا کے ساتھ سفارتی کوششیں بحال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

کیپیٹل اکنامکس کے سینئر ماہرِ موسمیات و اجناس حماد حسین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ اس بات کی مثبت علامت ہوسکتی ہے کہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہورہی ہیں۔

فروری کے اواخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی رسد گزرتی تھی۔

حسین نے مزید کہا کہ پائیدار حل تک پہنچنے سے قبل بعض دیگر رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی، جن میں ٹولز اور فیس کا معاملہ شامل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی ہیں اور معاملے سے آگاہ تین ذرائع کے مطابق منگل کے اواخر میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمدات بھی بحال کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے دو ذرائع نے بتایا کہ پائپ لائن سے کم شرح پر تیل کی ترسیل جاری تھی۔

مارکیٹ کی توجہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر بھی مرکوز ہے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہورہی ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورت حال غیر مستحکم ہے اور یوکرین میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

دریں اثنا، سعودی آرامکو نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات بڑھا دی ہیں۔ اس سے قبل مشرقی-مغربی پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی کو ینبع کے راستے بعض ترسیلات روکنا پڑی تھیں۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو خلیج کے اندر سات بڑے تیل بردار جہازوں میں سعودی خام تیل کے تقریباً 14 ملین بیرل لادے گئے۔

سیکسو بینک کے شعبہ اجناس حکمتِ عملی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے، بالخصوص ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی رسد میں اضافہ ہونے تک، انہیں تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اصل قلت ریفائن شدہ مصنوعات ہی کے شعبے میں برقرار ہے۔

یورپ اور امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی ہیں، کیونکہ ایران اور یوکرین کی جنگوں نے روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے پیداواری ممالک سے برآمدات میں نمایاں کمی کردی ہے۔