ٹیکس خسارے کے بڑھتے فرق کے دوران تیل کے درآمدی بل میں کمی
- حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں 2022 کی سطح سے تجاوز کرگئی ہیں، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے
حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں 2022 کی سطح سے تجاوز کرگئی ہیں، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ قیمتوں کے حالیہ جھٹکے نے بیرونی اور مالیاتی کھاتوں پر چار سال قبل جیسا دباؤ نہیں ڈالا۔ قیمتوں میں اضافہ حقیقی ہے مگر اس کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت تبدیل ہوچکی ہے۔
ملک میں تیل اور گیس کی درآمدی مقدار کم ہوگئی ہے، جبکہ درآمدی مصنوعات کے مجموعی حجم میں ریفائنڈ مصنوعات کے مقابلے میں خام تیل کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
مالی سال 2022 سے مالی سال 2025 کے دوران توانائی کی مجموعی درآمدات تقریباً ایک تہائی کم ہوکر 35 کروڑ بیرل سے زائد آئل ایکویولنٹ سے تقریباً 25 کروڑ بیرل رہ گئیں، جبکہ جی ڈی پی کے ہر ڈالر کے مقابلے میں درآمد کی جانے والی توانائی کی مقدار بھی تقریباً 40 فیصد کم ہوگئی۔ صارفین کی بلند قیمتیں اس کمی کی ایک وجہ ہیں، تاہم سولر پاور اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کا تیزی سے فروغ بھی درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار کم کر رہا ہے۔
مارچ تا جولائی 2022 اور اسی پانچ ماہ کے عرصے میں 2026 کا موازنہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ دونوں ادوار میں عالمی قیمتیں تقریباً ایک جیسی تھیں اور بعض مصنوعات کی قیمتیں 2026 میں اس سے بھی زیادہ رہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات 8.1 ارب ڈالر رہیں، جو 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہیں۔
دریں اثنا ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی مجموعی فروخت 18 فیصد کم ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ درآمدی بل میں کمی کھپت میں کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ ایل این جی کو نکال کر بھی پٹرولیم درآمدی بل 22 فیصد کم رہا۔
اس فرق کی ایک وجہ درآمدی ریفائنڈ مصنوعات کے بجائے خام تیل درآمد کرکے اسے مقامی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی طرف منتقلی ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی ریفائنریوں نے تقریباً مکمل پیداواری صلاحیت پر کام کیا، جو حالیہ برسوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کی پرانی ٹیکنالوجی کے باعث فرنس آئل کی پیداوار کا حصہ زیادہ ہے، جس پر اکثر منافع کم ہوتا ہے، جبکہ معمول کے حالات میں پٹرول اور ڈیزل سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت استعمال کرنے کے لیے کافی منافع فراہم نہیں کرتی۔
اس لیے تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنا اکثر تجارتی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔جنگ کے باعث ریفائننگ مارجن میں اضافے نے عارضی طور پر یہ حساب بدل دیا ہے، کیونکہ زیادہ قدر والی پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع فرنس آئل کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل کی درآمدات 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد بالترتیب 39 فیصد اور 88 فیصد کم ہوگئی۔ ڈیزل کی ریفائننگ پر منافع سب سے زیادہ پرکشش رہا، جس سے اس شعبے میں درآمدی مصنوعات کی جگہ مقامی پیداوار آنے کی زیادہ واضح وجہ سمجھ میں آتی ہے۔
درآمدی ڈھانچے میں اس تبدیلی کو مکمل طور پر مستقل نوعیت کی تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر جنگ کے باعث ملنے والا اضافی مارجن ختم ہونے کے بعد ریفائننگ مارجن معمول پر آجاتا ہے تو مقامی ریفائنریوں کے لیے ایک بار پھر کم صلاحیت پر کام کرنا اور تیار مصنوعات زیادہ مقدار میں درآمد کرنا معاشی طور پر زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔ اس سے رواں سال ریفائنڈ مصنوعات سے خام تیل کی جانب درآمدی منتقلی کا کچھ حصہ واپس ہوسکتا ہے، تاہم ایندھن کی مجموعی طلب میں بنیادی کمی لازماً ختم نہیں ہوگی۔
ایندھن کی طلب میں کمی اب بھی بلند خوردہ قیمتوں کے باعث کھپت میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ قیمتوں کے جھٹکے کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عموماً 300 سے 500 روپے فی لیٹر کے درمیان رہیں، جبکہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تقریباً 150 سے 250 روپے فی لیٹر تھیں۔
ڈیزل کی کھپت 25 فیصد کم ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ بلند قیمتوں پر صارفین کا ردعمل ہے، جبکہ دوسری جانب سولر توانائی کے فروغ سے زرعی ٹیوب ویلوں اور بیک اپ جنریٹرز میں ڈیزل کا استعمال بھی کم ہورہا ہے۔ پٹرول کی کھپت میں نسبتاً کم 11 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے اثرات بھی اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔
ٹیکسوں نے اس تبدیلی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پٹرولیم لیوی 2022 میں منفی سطح سے بڑھ کر اب 100 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے، جس سے سرکاری طور پر فروخت ہونے والے ایندھن اور خطے میں دستیاب سستے ایندھن کے درمیان قیمت کا فرق بڑھ گیا ہے۔ یہی فرق سرحد پار اسمگلنگ خصوصاً ڈیزل کی اسمگلنگ، کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سے بلند سرکاری قیمتوں کے مہنگائی پر دوسرے مرحلے کے اثرات کسی حد تک کم ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں طلب ٹیکس کے دائرے سے باہر منتقل ہوجاتی ہے اور حکومت متوقع آمدنی سے محروم رہتی ہے۔
یہ صورتحال اسی پالیسی خامی کو بھی اجاگر کرتی ہے جو مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات ریاست کے لیے ٹیکس وصولی کا نسبتاً آسان ذریعہ ہیں، کیونکہ ایندھن کی کھپت ایک باقاعدہ اور آسانی سے نگرانی کیے جانے والے سپلائی نظام میں مرکوز ہے۔ جب بھی پٹرول یا ڈیزل کے بجائے بجلی، خصوصاً گھروں کی چھتوں پر نصب سولر نظام سے پیدا ہونے والی بجلی، استعمال ہوتی ہے تو اس نظام سے حکومت کی کچھ آمدنی کم ہوجاتی ہے۔
جیسے جیسے ٹیکس کا بنیادی دائرہ سکڑتا جائے گا، باقی ماندہ ہر لیٹر ایندھن سے مزید ٹیکس وصول کرکے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش معاشی بگاڑ اور کم آمدنی والے طبقے پر اضافی بوجھ میں بتدریج اضافہ کرے گی۔
رواں سال درآمدی بل میں ہونے والی تمام کمی بھی مستقل نوعیت کی نہیں ہے۔ ایل این جی کی درآمدی لاگت میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی بچت ایک سپلائر کی جانب سے فورس میجر کے باعث ہوئی، نہ کہ کسی پالیسی اصلاح یا پائیدار طلبی انتظام کے نتیجے میں۔ اگر معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو کی ترسیل دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس نمایاں بچت کا بڑا حصہ ختم ہوسکتا ہے۔
سولر توانائی کے فروغ اور بلند قیمتوں کے باعث طلب میں آنے والی کمی برقرار رہنے کا امکان ہے، لیکن ایل این جی سے حاصل ہونے والی عارضی بچت کو بیرونی کھاتوں پر دباؤ آنے کے ہر موقع پر دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
ان تمام عوامل کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت کم ہورہی ہے۔ بلند لاگت صارفین تک منتقل کرنے سے طلب محدود ہوئی ہے اور جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارچ تا جولائی کرنٹ اکاؤنٹ کو مسلسل سرپلس میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔
مالیاتی کارکردگی بھی جزوی طور پر اس لیے برقرار رہی ہے کہ حکومت فروخت ہونے والے ہر لیٹر پر نمایاں طور پر زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے، حالانکہ فروخت ہونے والے لیٹروں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ بجلی کے شعبے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ بلند ٹیرف نے طلب محدود کی، سولر توانائی کے استعمال کو تیز کیا اور درآمدی آر ایل این جی کی ضرورت کم کردی۔
جیسے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، درآمدی ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں پہلے ہی تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، جبکہ متوقع نئی آٹو پالیسی کے تحت مراعات 40 سے 60 لاکھ روپے کے شعبے میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو تیزی سے بڑھا سکتی ہیں۔ بیرونی کھاتے کے نقطۂ نظر سے اس منتقلی کو خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔
لیکن موجودہ ٹیکس نظام کے نقطۂ نظر سے ہر نئی الیکٹرک گاڑی وفاقی حکومت کی آمدنی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کو بتدریج کم کررہی ہے۔
اس کا حل سولر توانائی اور الیکٹرک نقل و حرکت کے فوائد کو بھاری ٹیکسوں کے ذریعے ختم کرنا نہیں۔ پاکستان کو اس کے بجائے درمیانی مدت کے لیے محصولات کی منتقلی کا ایسا منصوبہ درکار ہے، جس میں قابلِ اعتماد اندازوں کے تحت یہ واضح کیا جائے کہ الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر تبدیلیوں کے نتیجے میں پٹرولیم لیوی اور بجلی سے حاصل ہونے والے محصولات کس طرح تبدیل ہوں گے۔
ٹرانسپورٹ سے متعلق محصولات کو بتدریج ایندھن کے استعمال ہونے والے لیٹروں کے بجائے گاڑیوں کی ملکیت اور سڑکوں کے استعمال سے منسلک ذرائع کی جانب منتقل کرنا ہوگا، جبکہ مجموعی ٹیکس بوجھ کو آمدنی، کھپت اور جائیداد پر وسیع تر اور مؤثر طریقے سے نافذ کیے جانے والے ٹیکسوں کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔
2022 کا سبق یہ تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ پاکستان کی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہ خطرہ کم ہورہا ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور پاکستان اب ادائیگیوں کے توازن کے خطرے سے مالیاتی خطرے کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ توانائی کا تحفظ اب بھی اہم مسئلہ ہے، لیکن اب یہ واحد مسئلہ نہیں رہا۔
اگر ٹیکس نظام نے پٹرولیم کی جگہ لینے والی معیشت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کیا تو حکومت بالآخر محصولات میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر من مانے ٹیکس، بجلی پر بھاری چارجز یا بالواسطہ ٹیکسوں کا ایک اور دور نافذ کرسکتی ہے۔ اس طرح وہ اس معاشی لچک کا ایک حصہ ضائع کردے گی جو پاکستان نے بڑی مشکل سے حاصل کرنا شروع کی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026