✕
پاکستان

ایندھن ریلیف اسکیم : حکومت نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے لیے ملکیتی شرط ختم کردی

  • 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی رکشے اب وزیراعظم کی ایندھن ریلیف اسکیم کے اہل ہیں، جس کے تحت پیٹرول پر نمایاں رعایت اور رجسٹریشن کی سابقہ رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی رکشے وزیراعظم کی خصوصی ایندھن ریلیف اسکیم میں رجسٹریشن کے اہل ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے ملکیت کی شرط بھی ختم کردی گئی ہ

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اب تک 22 لاکھ سے زائد افراد اسکیم کے تحت رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جن میں سے 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس چارجز معاف کردیے گئے ہیں، جبکہ فی ٹوکن پانچ لیٹر پیٹرول کی حد بھی ختم کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والوں کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جائیں گے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو ہر 10 روز بعد 10 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت ملے گی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ سہولت تمام پیٹرول پمپس پر دستیاب ہے اور اس حوالے سے فیول اسٹیشنز کو باقاعدگی سے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ ایک ہی دن میں 5 لاکھ 57 ہزار سے زائد رجسٹریشن مکمل کی گئیں، جبکہ اب تک 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 800 سی سی تک کی ایک لاکھ 52 ہزار گاڑیوں کو ٹوکن جاری کیے گئے ہیں، جبکہ صرف گزشتہ روز 5 لاکھ 45 ہزار سے زائد ٹوکن جاری کیے گئے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعظم کو اسکیم کے بارے میں حقیقی وقت کی بنیاد پر آگاہ رکھا جا رہا ہے اور عوامی آرا کی روشنی میں مزید بہتری لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم ان لوگوں کو ہدف بنا کر سبسڈی فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جنہیں ریلیف کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور ان کے استعمال کنندگان اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن ریلیف اسکیم سے متعلق شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں جن کا ازالہ کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ٹیوٹوریلز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

امن و امان کی صورتحال

امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئےعطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سڑکوں کی بندش اور عوامی آمدورفت میں خلل ڈالنے کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اسلام آباد میں عوامی آمدورفت متاثر نہ ہونے کو یقینی بنائے گی۔ ان کے بقول حکومت مظاہرین کو وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی پُرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔