✕
دنیا

سعودی عرب کی فضائی حملے کے خطرے کی وارننگ، ریاض ایئرپورٹ کے قریب آگ کے شعلے اور دھواں دیکھا گیا

  • سعودی حکام نے الرٹ جاری کیا، بعد ازاں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا
شائع اپ ڈیٹ

ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب ہفتے کے روز دھوئیں کے ایک بڑے بادل کو دیکھا گیا، جبکہ دارالحکومت کے اطراف ممکنہ خطرے سے خبردار کرنے والے سعودی انتباہات جاری ہونے کے بعد رات گئے دھماکوں جیسی آوازیں بھی سنی گئیں۔ یہ پیش رفت یمن کے حوثی گروپ کے حملوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی۔

رائٹرز کی ویڈیو اور تصاویر میں علاقے سے سیاہ دھوئیں کا ایک بہت بڑا ستون بلند ہوتا دکھائی دیا، جبکہ منظر کے اگلے حصے میں ایئرپورٹ ہائی وے، مرکزی ٹرمینل کی عمارت اور دیگر تنصیبات نظر آئیں۔ ویڈیو میں ایک موقع پر بظاہر ایندھن کے ٹینکوں کے پیچھے سے آگ کے شعلے بلند ہوتے بھی دکھائی دیے۔

رائٹرز کی جانب سے دھوئیں اور رات گئے جاری کیے گئے انتباہات سے متعلق سوالات پر سعودی حکومت کے میڈیا دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

سعودی شہری دفاع نے رات گئے ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع شہر الخرج میں ممکنہ فضائی حملوں کے خطرے سے متعلق موبائل فون پر انتباہات جاری کیے، تاہم ہفتے کی صبح بعد ازاں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا گیا۔ ریاض کے علاقے العلیا میں موجود رائٹرز کے ایک صحافی نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیے جانے سے قبل دھماکوں جیسی آوازیں سنیں۔

اگرچہ رواں سال امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ریاض میں بعض انتباہات جاری کیے گئے تھے، تاہم جولائی میں حوثیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلے انتباہات تھے۔

حوثیوں کی وارننگ

حوثی، جو یمن کے گنجان آباد علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں، نے جولائی میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان حملوں میں سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو نئے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کا اہم متبادل راستہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت بدستور بند ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے جمعہ کو کہا کہ گروپ نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں نامعلوم ’’مجرمانہ کارروائیوں‘‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

حوثی گروپ، جس نے رواں ماہ برق رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر قبضہ کرلیا، کا کہنا ہے کہ سعودی فضائیہ نے گزشتہ چند روز کے دوران اس کے خلاف سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو جاری بیان میں ’’سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں، جن میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے حملے بھی شامل ہیں، کی سخت ترین الفاظ میں مذمت‘‘ کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری زخمی ہوئے ہیں۔

سلامتی کونسل نے بیان میں ’’یمن میں حوثیوں کی فوجی کشیدگی میں اضافے‘‘ کی بھی مذمت کی۔