✕
اداریہ

18ویں ترمیم، اختیارات کی منتقلی صرف کاغذوں تک محدود؟

  • 18ویں ترمیم اپریل 2010 میں آئین کا حصہ بنی، اس کے باوجود ان شعبوں سے متعلق وفاقی بیوروکریٹک ڈھانچے برقرار رہے جنہیں صوبوں کو منتقل کیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بڑے پیمانے پر ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کیے جانے کے 16 سال بعد بھی وفاقی حکومت ان شعبوں میں 17 وزارتیں چلا رہی ہے جو صوبوں کو منتقل کیے جا چکے تھے۔ اس غیر معمولی ناکامی نے اب سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کو حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دینے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ صحت، تعلیم، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، صنعت، ثقافت اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت ان شعبوں سے متعلق وزارتوں کو ختم کرے۔

کمیٹی نے عدم تعمیل پر وزیراعظم شہباز شریف کو طلب کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ کسی ایسے معاملے کا، جو اتنے عرصے پہلے آئینی طور پر طے ہو چکا تھا، آج بھی انتظامی طور پر غیر حل شدہ رہنا اس طریقے پر ایک فردِ جرم ہے جس کے تحت حکومت کام کرتی ہے۔

18ویں ترمیم اپریل 2010 میں آئین کا حصہ بنی، اس کے باوجود ان شعبوں سے متعلق وفاقی بیوروکریٹک ڈھانچے برقرار رہے جنہیں صوبوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض وزارتیں بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور رابطہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم سینیٹ کی کمیٹی نے آئینی بنیادوں پر اس وضاحت کو بجا طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سولہ سال یقیناً اتنا عرصہ ہونا چاہیے تھا کہ ضروری سمجھے جانے والے رابطہ کاری کے جو بھی جائز طریقہ کار درکار تھے، انہیں وفاقی ڈھانچے کو ان شعبوں میں برقرار رکھے بغیر قائم کیا جا سکتا، جو صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔

یہ صورتحال ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ان شعبوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کا معاملہ ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور صنعت براہِ راست معاشی کارکردگی، انسانی ترقی اور روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے شعبوں میں ذمہ داریوں کی تقسیم یا باہمی مداخلت لازماً پالیسی سازی اور جوابدہی کو پیچیدہ بناتا ہے۔

جب اختیارات اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم یا باہم متداخل ہوں تو اخراجات دہرے ہو جاتے ہیں، انتظامی حدود دھندلا جاتی ہیں اور حکومتوں کو یہ آسان راستہ مل جاتا ہے کہ جب نتائج خراب ہوں تو وہ ذمہ داری حکومت کی دوسری سطح پر ڈال دیں۔ پاکستان پہلے ہی کمزور عمل درآمد کا شکار ہے؛ اس میں ادارہ جاتی ابہام کا اضافہ صورتحال کو مزید خراب ہی کر سکتا ہے۔

یہاں ایک مانوس بیوروکریٹک مسئلہ بھی کارفرما ہے۔ سرکاری محکمے اور وزارتیں شاذ و نادر ہی رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ بجٹ، عہدے، اثر و رسوخ اور وسائل پر کنٹرول وابستہ ہوتا ہے، اور یہ سب کسی ادارے کے اصل جواز ختم ہو جانے کے طویل عرصے بعد بھی اس کے برقرار رہنے کے لیے مضبوط ترغیبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی نااہلی اس سرپرستی اور بدعنوانی سے مل جاتی ہے جس نے کئی دہائیوں سے طرز حکمرانی کو متاثر کر رکھا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اکثر حجم میں کمی، ادارہ جاتی معقولیت اور اخراجات میں کمی کے وعدے کرتی رہی ہیں، لیکن ایسے ڈھانچے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل مکمل ہونے والی آئینی اصلاح کے تحت ختم ہو جانے چاہیے تھے، اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔

یہ معاملہ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کے بارے میں اچانک مقبول ہونے والی بحث کے حوالے سے بھی ایک مفید تناظر فراہم کرتا ہے۔ ایسی تجاویز یقیناً غور کی مستحق ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی حکومت کا 2010 میں طے کی گئی آئینی تنظیم نو مکمل کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہونا بڑے نئے منصوبوں پر اعتماد کو کم کرنا چاہیے۔

اضافی انتظامی ڈھانچے تشکیل دینے سے پہلے پالیسی سازوں کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ موجودہ آئینی انتظامات پر عمل درآمد اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا ہے۔ اس معاملے سے سبق صرف سیاسی ارادے ہی نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت سے بھی متعلق ہے۔

فوری طور پر بھی موجودہ صورتحال کو مزید طول دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے حکومت کو کارروائی کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے نتیجے میں ایک واضح تفصیل سامنے آنی چاہیے کہ کون سے اختیارات وفاقی سطح پر باقی ہیں، وہ وہاں کیوں باقی ہیں، ان کے برقرار رہنے کی قانونی بنیاد کیا ہے اور حکومت زیر التوا اختیارات کی منتقلی مکمل کرنے کا ارادہ کیسے رکھتی ہے۔ اگر حقیقی آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں تو ان کی شفاف انداز میں نشاندہی کی جانی چاہیے اور مناسب طریقہ کار کے ذریعے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔

اس سے بڑی ناکامی طرز حکمرانی کی ہے۔ پاکستان اصلاحات منظور کرتا ہے، عمل درآمد کے طریقہ کار تشکیل دیتا ہے، اقدامات کی تکمیل کا اعلان کرتا ہے اور پھر برسوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ پرانے نظام کا ایک بڑا حصہ اب بھی کام کر رہا ہے۔ نااہلی، ادارہ جاتی جمود اور مفاداتی گروہوں نے بارہا اصلاحات کو ایسے عمل میں تبدیل کر دیا ہے جو بڑی حد تک صرف کاغذوں پر ہی مکمل ہوتا ہے۔

18ویں ترمیم کے 16 سال بعد اب مزید وقت مانگنے کی کوئی قابلِ قبول گنجائش نہیں ہو سکتی۔ آئین نے بہت پہلے ہی سمت کا تعین کر دیا تھا۔ اب حکومت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ بظاہر 17 وزارتیں اس خاتمے سے کیوں رہ گئیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026