✕
پاکستان

ہر ڈسکو کے 51 سے 100 فیصد حصص کی نجکاری کا منصوبہ، قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ

  • فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے لیے 10 فریق اہل قرار پائے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو آگاہ کیا گیا ہے کہ منظور شدہ ڈھانچے کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں 51 سے 100 فیصد تک حصص اور انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں محمد فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا، جس میں ڈسکوز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ پوسٹل لائف انشورنس کی میچورٹی کلیمز میں تاخیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

کمیٹی کو ڈسکوز کی نجکاری پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کے مالیاتی مشیر ایلویریز اینڈ مارسال نے ضروری جانچ پڑتال مکمل کرلی ہے، جس کے بعد تنظیم نو کا منصوبہ اور لین دین کا ڈھانچہ نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے منظور کرلیا۔

منظور شدہ ڈھانچے کے تحت ہر ڈسکو کے 51 سے 100 فیصد حصص کے ساتھ انتظامی کنٹرول بھی نجی شعبے کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اظہار دلچسپی کا عمل مکمل ہوچکا ہے، جس کے تحت فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے لیے 10 فریق اہل قرار پائے ہیں، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کے لیے 11 اظہار دلچسپی/درخواستیں زیر جائزہ ہیں، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کا عمل 7 ستمبر 2026 کو مکمل ہوگیا۔

کمیٹی نے نجکاری کے عمل میں شفاف، مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار، مناسب قدر بندی اور کم از کم قیمت مقرر کرنے، نجکاری کے بعد مؤثر ریگولیٹری نگرانی اور نیپرا کے کردار کے ساتھ باقاعدہ مالی و کارکردگی آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا۔

پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 75 فیصد حصص کے لیے 23 دسمبر 2025 کو بولی ہوئی، جس میں عارف حبیب کی سربراہی میں کنسورشیم نے 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت کے مقابلے میں 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دی۔ 29 جنوری 2026 کو معاہدے کی دستاویزات مکمل ہوئیں اور 29 جون 2026 کو مینجمنٹ کنٹرول منتقل کردیا گیا۔ کامیاب بولی دہندہ نے باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے کال آپشن استعمال کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔

پوسٹل لائف انشورنس کے حوالے سے بتایا گیا کہ جون 2026 تک واجبات 15.5 ارب روپے تھے، جن میں تقریباً 55,450 کلیمز شامل ہیں۔ اضافی 8.455 ارب روپے کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 3 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے دسمبر 2026 میں ضمنی گرانٹ کے ذریعے مزید فنڈز فراہم کرنے پر غور کرنے کی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ زیر التوا کلیمز، خصوصاً مستحق اور کمزور پالیسی ہولڈرز کے دعوے نمٹائے جاسکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026