✕
کاروبار اور معیشت

سعودی عرب کی عمان کے راستے مزید خام تیل کی پیشکش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.63 ڈالر، یعنی 3.3 فیصد کمی کے ساتھ 105.12 ڈالر فی بیرل رہی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کو تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں۔ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے مزید خام تیل کی کھیپیں فراہم کرنے کی اطلاعات نے مشرقِ وسطیٰ میں رسد میں خلل کے خدشات کسی حد تک کم کیے، جبکہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کم کمی نے بھی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا۔

صبح 11 بج کر 23 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.63 ڈالر، یعنی 3.3 فیصد کمی کے ساتھ 105.12 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.11 ڈالر، یعنی 3.9 فیصد کمی کے ساتھ 101.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

معاملے سے واقف افراد نے بتایا کہ سعودی عرب عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقلی کے ذریعے ایشیائی ریفائنریوں کو خام تیل کی مزید کھیپیں فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔

اس اقدام سے بحیرہ احمر تک جانے والی سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر حملوں کے نتیجے میں عالمی رسد کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کسی حد تک کم ہوگئی ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹوانوو نے کہا، ’’خلیج سے سعودی عرب کی جانب سے برآمدات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسد میں خلل زیادہ وسیع ہونے کے خدشات کم ہو رہے ہیں۔‘‘

گزشتہ سیشن میں تیل کی قیمتوں میں 3 ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا، جب بحری جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے بحیرہ احمر میں واقع تیل برآمدی مرکز ینبع سے خام تیل کی ترسیل معطل کردی گئی ہے، جبکہ ریاض نے یورپی صارفین کے لیے خام تیل کی بعض کھیپوں کی ترسیل بھی منسوخ کردی ہے۔

ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن ینبع کی بندرگاہ کو خام تیل فراہم کرتی ہے، جو ایران کی جانب سے فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کیے جانے کے بعد سعودی عرب کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز بن گئی ہے۔

جنگ سے قبل آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی رسد کے پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ تھا۔

بدھ کو جاری ہونے والے ابتدائی بحری جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نظر آنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد منگل کو ایک بار پھر ایک ہندسے تک محدود رہی اور چار رہی، جو ایک روز قبل سات تھی۔ یہ تعداد 10 روزہ اوسط 18 کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

امریکی ذخائر کا دباؤ

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی جانب سے بدھ کو جاری اعداد و شمار میں گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کم کمی ظاہر ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آیا۔

ای آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار بیرل کی کمی ہوئی، جبکہ رائٹرز کے سروے میں توانائی کے تجزیہ کاروں نے 16 لاکھ 20 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

ای آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں پٹرول اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق ڈیزل کے ذخائر میں اضافہ توقع سے زیادہ رہا، جبکہ پٹرول کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے کمی کی توقع تھی۔

ایگین کیپیٹل کے شراکت دار جان کلفڈ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار تیل کی قیمتوں کے لیے منفی تھے کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر برقرار ہیں بلکہ معمولی اضافے کے ساتھ بڑھ بھی رہے ہیں، جبکہ خام تیل کے ذخائر میں کمی کا رجحان تقریباً رک گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی جنگی طیاروں نے یمن پر شدید بمباری کی، جبکہ حوثیوں نے سعودی شہروں پر ڈرونز اور میزائل داغے۔ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے سے بحیرہ احمر کے ساتھ واقع یمنی قصبوں میں پیش قدمی کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے ینبع پر تازہ حملے کیے ہیں۔

سٹی گروپ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اسے توقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں قلیل مدت کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی خام تیل اور ریفائن شدہ ایندھن کی قیمتوں کو سہارا دیتی رہے گی، جبکہ علاقائی سفارتی کوششوں کی مدد سے 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں بالآخر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی تیل منڈی میں ڈیزل سب سے بڑا تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ ڈیزل کے ساتھ ساتھ ان اقسام کے خام تیل کا بھی بڑا سپلائر ہے جو ڈیزل کی پیداوار کے لیے موزوں ترین سمجھی جاتی ہیں۔ روس میں ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں نے، جو ڈیزل کا ایک اور بڑا سپلائر ہے، منڈی میں رسد مزید محدود کردی ہے اور قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

ڈیزل کی قیمتوں کے لیے اہم عالمی معیار سمجھے جانے والے یورپی گیس آئل کے مستقبل کے سودے منگل کو ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئے، تاہم بدھ کو ان میں کمی آگئی۔ امریکا میں انتہائی کم سلفر والے ڈیزل کے مستقبل کے سودے بھی منگل کو ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئے۔

نیگا ڈاٹ کام کے مارکیٹ تجزیہ کار فرینک وال بام نے کہا، ’’ڈیزل کی قیمتوں میں مضبوطی ایک مخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قلت کی عکاسی کرتی ہے، جس کے ساتھ مہنگا خام تیل بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یورپ کو مشرقِ وسطیٰ سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی قابلِ ذکر مقدار میں رسد سے محروم ہونا پڑا ہے، جبکہ مشرقی یورپ میں جاری کشیدگی نے روس کی کئی بڑی ریفائنریوں کی پیداوار متاثر کردی ہے اور ماسکو کو ایندھن کی برآمدات محدود کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت تاریخ میں پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔

روسی اخبار ویدوموستی نے منگل کی رات دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ روسی حکومت نے ایندھن پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں اکتوبر کے اختتام تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹوانوو نے کہا، ’’اگر کوئی امن معاہدہ نہیں ہوتا یا روس کی صورتِ حال میں بہتری نہیں آتی تو میری توقع ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں کو سہارا ملتا رہے گا۔‘‘