پمز کی راکھ سے آگے: قابلِ تدارک سانحات کی روک تھام کے لیے پاکستان کو قانونی ’انجینئر آف ریکارڈ‘ کی ضرورت کیوں ہے؟
- ماتحت عملے کو فوجداری طور پر ذمے دار ٹھہرانا محض علامات کا علاج کرنے اور اصل بیماری کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے
26 اگست 2026 کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشننگ کمپریسر میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا گیا، تاہم اس کی حتمی وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو زندہ نکالا جا سکا۔ 14 شیر خوار بچے، جن میں بعض کی عمر بمشکل تین دن تھی، اس جگہ جھلس کر جاں بحق ہوگئے جہاں ان کے والدین نے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے بھروسا کیا تھا۔
چند ہی روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور شعبہ نوزائیدہ بچوں کے سربراہ سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ ذمہ دار پائے جانے والے افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں وہی بات سامنے آئی جس کا سوگوار خاندانوں کو پہلے ہی خدشہ تھا: نرسری میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ ہنگامی صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ کو خالی کرانے کے لیے اسپتال میں کوئی باقاعدہ مشق شدہ طریقہ کار بھی موجود نہیں تھا۔ آگ لگنے کے ماخذ سے متعلق حتمی فرانزک رپورٹ کچھ بھی قرار دے، بنیادی مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے—ایسا وارڈ جہاں نگرانی کا مؤثر نظام، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہ ہوں، دراصل اس عمارت کا نتیجہ ہے جسے قیام کے دن سے مسلسل اور قانونی طور پر قابلِ نفاذ انجینئرنگ نگرانی میں کبھی نہیں رکھا گیا۔
یہ ایک انتہائی افسوس ناک مگر بدقسمتی سے مانوس منظرنامہ تھا۔ جون 2024 میں پنجاب کے ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں بھی اسی نوعیت کی برقی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں 11 شیر خوار بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور 3 سینئر ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا تھا، جبکہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اسپتال کے فائر ایکسٹنگوشرز کی مدتِ استعمال طویل عرصے پہلے ختم ہوچکی تھی۔ دو سانحات، دو سال کے وقفے سے، اور دونوں کی جڑ ایک ہی تھی: ایسی عمارتیں جن کے حفاظتی نظام تعمیر اور تکمیل کے بعد خاموشی سے بوسیدہ ہوتے گئے، مگر کسی شخص کو قانونی طور پر اس بات کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا کہ وہ اس خرابی کو بروقت نوٹس میں لاتا۔
ڈیوٹی پر موجود انتظامی افسران یا ماتحت دیکھ بھال کے عملے کو فوجداری طور پر ذمے دار ٹھہرانا، جیسا کہ پاکستان کا تحقیقاتی نظام عموماً کرتا ہے، محض علامات کا علاج اور اصل بیماری کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بنیادی ناکامی کسی فرد کی نہیں بلکہ نظام کی ہے: عمارت کی پوری مدتِ کار کے دوران ہر متعلقہ انجینئرنگ شعبے کے تحت قانونی طور پر تسلیم شدہ اور مسلسل انجینئرنگ نگرانی کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔
بات کو زیادہ سے زیادہ واضح الفاظ میں کہنا ضروری ہے، کیونکہ یہی اس تحریر کا بنیادی نکتہ ہے: بہتر خریداری کے طریقہ کار، تیز تر تحقیقات یا سخت تر معطلیاں اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتیں۔ اس خلا کو پُر کرنے والی واحد اصلاح قانونی طور پر مقرر کردہ انجینئر آف ریکارڈ (ای او آر) کا نظام ہے؛ یعنی ایک نامزد، لائسنس یافتہ انجینئر جو عمارت کے زیرِ استعمال رہنے تک اس کے ساختی، برقی، میکانی اور آگ و انسانی جان کے تحفظ سے متعلق نظاموں کا ذاتی اور قانونی طور پر جواب دہ رہے۔ اس تحریر میں پیش کی گئی ہر دوسری تجویز ثانوی حیثیت رکھتی ہے اور صرف اسی بنیادی تقاضے کو تقویت دینے کے لیے ہے۔
ایک واقعہ نہیں، ایک مسلسل رجحان: پاکستان میں آتش زدگی کا ریکارڈ
پی آئی ایم ایس اور ساہیوال کے واقعات کوئی الگ تھلگ سانحات نہیں بلکہ ایک طویل فہرست کی کڑیاں ہیں، جو ہر اس نوعیت کی عمارت تک پھیلی ہوئی ہے جس پر یہ نظام لاگو ہونا چاہیے، خواہ وہ قانون ساز ادارہ ہو، صنعتی عمارت ہو یا تجارتی مرکز۔ حتیٰ کہ پاکستان کی پارلیمان بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ 9 نومبر 1993 کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر قومی اسمبلی ہال میں برقی شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس سے وہ ایوان شدید متاثر اور بری طرح جل گیا جہاں ملک کے قوانین پر بحث کی جاتی ہے۔ یہ نومبر 1996 تک قابلِ استعمال نہ رہا، جب ازسرنو تعمیر شدہ ہال دوبارہ کھولا گیا۔ جون 2007 میں اسی عمارت میں ایک اور نسبتاً چھوٹی آگ لگی، جس نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور سروس برانچ کے چوتھی منزل پر واقع ریکارڈ کو تباہ کردیا، تاہم اس آگ کی وجہ کبھی حتمی طور پر معلوم نہ ہوسکی۔ اگر ملک کا اپنا قانون ساز ادارہ، جو اس وقت دستیاب اعلیٰ ترین معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا، ایک غیر محسوس برقی خرابی سے محفوظ نہیں رہ سکا تو کسی عام سرکاری عمارت کو ازخود محفوظ تصور نہیں کیا جاسکتا۔
ملک میں اس حوالے سے بدترین مثال ستمبر 2012 میں کراچی کی علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ ہے، جس میں 260 سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے اور جسے آج بھی پاکستان کی سب سے ہلاکت خیز صنعتی تباہی قرار دیا جاتا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستے موجود نہیں تھے، کھڑکیوں پر سلاخیں لگی تھیں اور دروازے مقفل تھے؛ بیشتر متاثرین ایک ایسے تہہ خانے میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے جہاں سے وہ باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ اسی رات لاہور میں جوتوں کی ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ نے مزید 25 جانیں لے لیں۔ حالیہ عرصے میں جنوری 2026 میں کراچی کے گل پلازا میں آتش زدگی سے کم از کم 28 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع تقریباً 1,200 دکانوں پر مشتمل چار منزلہ مارکیٹ کا ایک حصہ منہدم بھی ہوگیا، جبکہ اس کے نتیجے میں ملحقہ رمپا پلازا کا ڈھانچہ بھی اس قدر کمزور ہوگیا کہ انجینئروں نے اس کے ستونوں کو ہنگامی طور پر اسٹیل جیکٹنگ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اس سے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ قبل کراچی کی راشد منہاس روڈ پر واقع آر جے شاپنگ مال میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ میں بھی 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جو غیر معمولی حد تک مماثل واقعہ تھا۔
ایک قانون ساز ادارہ، ایک گارمنٹس فیکٹری، اسپتال کی نرسری اور ایک شاپنگ پلازا—عمارتیں مختلف، دہائیاں مختلف، مگر ناکامی ایک ہی بار بار دہرائی گئی۔ ہر واقعے میں فائر سیفٹی کا ایسا نظام موجود تھا یا ہونا چاہیے تھا جو آگ کو پھیلنے سے روک سکتا تھا—چاہے وہ فائر کمپارٹمنٹ کی دیوار، اسپرنکلر ہیڈ، واضح ہنگامی اخراج کا راستہ یا مناسب درجہ بندی والا برقی سرکٹ ہو—مگر یا تو وہ مقررہ معیار کے مطابق کبھی نصب ہی نہیں کیا گیا یا آگ لگنے سے بہت پہلے خاموشی سے ناکارہ ہوچکا تھا، اور کسی کو اس امر کی مسلسل قانونی ذمے داری نہیں دی گئی کہ وہ اس خرابی سے باخبر رہے۔ آگ لگنے کی مختلف وجوہات—ویلڈنگ سے نکلنے والی چنگاریاں، زائد المیعاد فائر ایکسٹنگوشرز، مشتبہ برقی خرابی یا اوور لوڈڈ پینل—کو ایک طرف رکھ دیں تو ان تمام سانحات میں ایک ہی حفاظتی خلا نمایاں ہوتا ہے: قانونی طور پر مقرر کردہ ایسا انجینئر آف ریکارڈ موجود نہیں تھا جسے آگ لگنے سے بہت پہلے عمارت کی حالت کا ذمے دار ٹھہرایا جاسکتا۔
عمارت کی پوری مدتِ کار میں خرابی کا پھیلاؤ
پاکستان میں تعمیر مکمل ہونے کے بعد سرکاری، تجارتی، صنعتی اور گنجان آبادی والی رہائشی عمارتوں کو جامد اثاثوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ قبضے اور استعمال کی کئی دہائیوں کے دوران ان میں مرحلہ وار تبدیلیاں کی جاتی رہتی ہیں: کمروں کی تقسیم نو کی جاتی ہے، ایچ وی اے سی کی ڈکٹوں کا راستہ تبدیل کیا جاتا ہے، نئی رائزرز کی تنصیب کے لیے عمارت کے بنیادی ڈھانچے میں سوراخ کیے جاتے ہیں اور ان آلات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے برقی سرکٹس میں توسیع کی جاتی ہے جن کا اصل ڈیزائن میں تصور ہی نہیں کیا گیا تھا۔
جب کوئی عمارت پہلی مرتبہ ڈیزائن کی جاتی ہے تو کنسلٹنگ انجینئرز حفاظت کے واضح معیارات طے کرتے ہیں، جن میں دھوئیں کے اخراج کی حرکیات، آگ سے محفوظ حصوں کی تقسیم، برقی پینلز کی گنجائش کی حدود اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی چوڑائی شامل ہوتی ہے۔ ان تمام حفاظتی معیارات کی بنیاد اس مفروضے پر ہوتی ہے کہ عمارت کو اسی مقصد اور اسی انداز میں استعمال کیا جائے گا جس کے لیے اسے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ عمارت کے استعمال کے بعد اصل ڈیزائن کے تقاضوں کو مدنظر رکھے بغیر کی جانے والی تبدیلیاں خاموشی سے اس میں موجود حفاظتی گنجائش کو ختم کرتی رہتی ہیں۔ ایک اضافی ایئر کنڈیشننگ یونٹ ایسے پینل سے جوڑ دیا جاتا ہے جو اس اضافی بوجھ کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔ دھوئیں کو ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیلنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے دروازے سہولت کی خاطر کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور ان میں الارم سے منسلک خودکار بندش کا نظام کبھی نصب نہیں کیا جاتا۔ جب تک کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے، عمارت کا فائر سیفٹی حصار بہت پہلے اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہوتا ہے—اس سے پہلے کہ کوئی ماچس جلائے یا نرسری میں کوئی کمپریسر حد سے زیادہ گرم ہو۔
یہ سب اس لیے ممکن ہے کہ پاکستانی قانون انجینئر آف ریکارڈ کے تصور کو نافذ نہیں کرتا: یعنی ایسا لائسنس یافتہ پیشہ ور انجینئر جو تعمیر کے مرحلے تک محدود رہنے کے بجائے عمارت کی پوری مدتِ کار کے دوران اس کی ساختی اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق سالمیت کی مسلسل قانونی ذمے داری اٹھائے۔
خریداری کے نظام (کیو سی بی ایس) کو قانونی انجینئرنگ نگرانی (ای او آر) سے الگ رکھنا
پالیسی ساز جب کسی حل کی تلاش میں ہوتے ہیں تو اکثر خریداری کے نظام میں اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور اس حوالے سے واقعی ایک مسئلہ موجود ہے۔ سرکاری محکمے اکثر انجینئرنگ کنسلٹنٹس کی خدمات کم ترین لاگت پر انتخاب (ایل سی ایس) کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، جس میں زیادہ اہل امیدوار کے بجائے سب سے کم قیمت دینے والے کو ترجیح ملتی ہے۔ ایل سی ایس کی جگہ معیار اور لاگت کی بنیاد پر انتخاب (کیو سی بی ایس) کا نظام لانا، جس میں قیمت کے مقابلے میں تکنیکی قابلیت کو 80:20 یا 85:15 کے تناسب سے وزن دیا جائے، ایک حقیقی بہتری ہوگی اور ساختی، برقی یا فائر سیفٹی سے متعلق ہر معاہدے کے لیے اسے لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
لیکن کیو سی بی ایس اور انجینئر آف ریکارڈ دو مختلف مسائل حل کرتے ہیں اور ان دونوں کو ایک سمجھ لینا ہی موجودہ نظام کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ کیو سی بی ایس خریداری کا ایک طریقہ کار ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ کنسلٹنٹ کا انتخاب کیسے کیا جائے۔ ٹینڈر مکمل ہونے اور تکمیل کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد یہ کسی قانونی تحفظ کا باعث نہیں بنتا۔ اس کے برعکس ای او آر ایک قانونی نگرانی کا ایسا نظام ہے جو عمارت کے قائم رہنے تک برقرار رہتا ہے، خواہ اسے تعمیر کرنے والی فرم کون سی تھی یا اس فرم کا انتخاب کس طریقے سے کیا گیا تھا۔
لہٰذا ڈیزائن کی حدود، بوجھ برداشت کرنے کی گنجائش، حصوں کی تقسیم اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق نظاموں پر ای او آر کا قانونی اختیار تجارتی معاہدوں اور خریداری کے قواعد سے بالاتر ہونا چاہیے، نہ کہ انہی کا حصہ۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے:
● تمام شعبوں میں عالمگیر اطلاق: یہ تقاضا تمام سرکاری بنیادی ڈھانچے، صنعتی پلانٹس، تجارتی مراکز اور نجی کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں پر لاگو ہونا چاہیے، صرف اسپتالوں یا سرکاری عمارتوں تک محدود نہیں۔
● شعبہ جاتی بنیاد پر تقرری: قانونی ضابطوں میں ہر انجینئرنگ شعبے کے لیے انفرادی پیشہ ورانہ ذمے داری کو تسلیم کیا جائے۔ ساختی ای او آر کو بوجھ برداشت کرنے والے حصوں اور بنیادی ساخت میں تبدیلیوں پر خصوصی اختیار حاصل ہو۔ ای او آر (ایم ای پی/ایچ وی اے سی) برقی تقسیم کی حدود، ڈکٹ ورک اور حرارتی بوجھ کی نگرانی کا ذمے دار ہو؛ یہی وہ شعبہ ہے جہاں پی آئی ایم ایس میں ناکامی ہوئی۔ ای او آر (فائر اینڈ لائف سیفٹی) اسپرنکلر نظام کے ہائیڈرولکس، فائر ڈیٹیکشن الارمز اور ہنگامی اخراج کے راستوں کا جواب دہ ہو۔
● معاہدے کے ذریعے اختیار ختم نہ کیا جاسکے: یہاں تک کہ اگر کسی کنسلٹنٹ کی خدمات کیو سی بی ایس کے ذریعے حاصل کی گئی ہوں، تب بھی اس انجینئر کی بطور ای او آر تکنیکی منظوری کو عمارت کا مالک، اسپتال انتظامیہ یا محکمہ تعمیرات و مواصلات ختم، تبدیل یا نظرانداز نہیں کرسکے گا، سوائے اس کے کہ باقاعدہ مہر شدہ تبدیلیِ ریکارڈ کی درخواست کے ذریعے ایسا کیا جائے۔
عالمی مثالیں: دیگر ممالک میں جواب دہی کا نظام
پاکستان اس تصور کو ازسرنو ایجاد نہیں کرے گا بلکہ ایسے نظاموں کو اپنائے گا جنہیں دنیا کے دیگر ممالک میں پہلے ہی آزمایا جاچکا ہے۔ امریکا میں ریاستی لائسنسنگ بورڈ تقریباً ہر عمارت کے اجازت نامے کے لیے ایک نامزد، پیشہ ورانہ طور پر لائسنس یافتہ انجینئر یا آرکیٹیکٹ آف ریکارڈ کا تقاضا کرتے ہیں، اور یہ فرد عمارت کے زیرِ استعمال آنے کے بعد بھی اس کے ڈیزائن کی انسانی جان کے تحفظ سے متعلق کارکردگی کا ذمے دار رہتا ہے۔ جرمنی اس سے بھی آگے ہے جہاں پروفنگ انجینئر یا جانچ کرنے والے انجینئر کا نظام موجود ہے۔ اس کے تحت ڈیزائن ٹیم سے الگ ایک آزاد طور پر تصدیق شدہ انجینئر تعمیر سے قبل ساختی اور فائر سیفٹی حسابات کا جائزہ لیتا ہے اور بعد میں اہم مراحل پر بھی معائنہ کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ساختی ناکامیوں کی بڑی تعداد ناقص ڈیزائن مفروضوں سے جنم لیتی ہے، جنہیں تعمیر کے دوران کنکریٹ اور فولاد میں شامل ہونے سے پہلے ایک بااختیار دوسرے ماہر کی نظر پکڑ سکتی ہے۔
سنگاپور میں بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن اتھارٹی ہر مکینیکل، برقی اور ساختی ڈیزائن کو اپنے ڈیجیٹل کورنیٹ پلیٹ فارم کے ذریعے رجسٹرڈ کوالیفائیڈ پرسن یا پروفیشنل انجینئر سے منظور کرانے کا تقاضا کرتی ہے، جس سے یہ مستقل اور قابلِ جانچ ریکارڈ محفوظ رہتا ہے کہ کس نے، کیا اور کب منظور کیا۔ یہی وہ قابلِ سراغ نظام ہے جسے پاکستان کی تحقیقاتی کمیٹیوں کو اس وقت کسی سانحے کے بعد ازسرنو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ آسٹریلیا اس کے برعکس سمت میں ایک اہم سبق پیش کرتا ہے۔ 2014 میں میلبورن کے لاکروس ٹاور میں آتش زدگی کے بعد ایک اہم سرکاری جائزے میں سامنے آیا کہ ملک کے تعمیراتی ضابطے کاغذ پر تو مؤثر تھے، مگر عملی طور پر ان پر باقاعدگی سے عمل نہیں کیا جاتا تھا، کیونکہ منصوبے کی منظوری کے بعد کسی کے پاس مسلسل اور قابلِ نفاذ جواب دہی نہیں رہتی تھی۔ جائزے کی سفارشات، جن میں مضبوط رجسٹریشن، زیادہ واضح جواب دہی کا سلسلہ اور عمارت کی پوری مدتِ کار کا بہتر ریکارڈ رکھنے کے اقدامات شامل تھے، بنیادی طور پر انہی اصلاحات کے مترادف ہیں جو یہ تحریر پاکستان کے لیے تجویز کرتی ہے۔ خطے میں بھی بھارت کے تعمیراتی ضوابط میں اب ایسے آرکیٹیکٹ آف ریکارڈ کو زیادہ تسلیم کیا جارہا ہے جو عمارت کے زیرِ استعمال آنے تک فائر ایگزٹس، محفوظ پناہ گاہوں اور ساختی مطابقت کا جواب دہ رہتا ہے، اگرچہ بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر بکھرا ہوا نفاذ اور کم معاوضے اس نظام کے اثر کو محدود کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنا نظام وضع کرتے وقت اس انتباہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
ان تمام نظاموں میں مشترک اصول کاغذی کارروائی نہیں بلکہ یہ بنیادی تصور ہے کہ عمارت کی حفاظت کے لیے پیشہ ورانہ جواب دہی کا خاتمہ افتتاحی فیتہ کاٹنے کے ساتھ نہیں ہوجاتا۔ پاکستان کا موجودہ قانونی و ضابطہ جاتی نظام اس کے برعکس تصور کرتا ہے۔
انجینئرنگ ڈیزائن کی دانشورانہ ملکیت کو سرکاری خریداری کے نظام میں شامل کرنا
قانونی ای او آر نظام کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری خریداری کے قواعد بھی ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں: کسی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا انجینئرنگ ڈیزائن دانشورانہ ملکیت کا تحفظ رکھنے والا اثاثہ ہے، محض ایسا ڈرائنگ سیٹ نہیں جسے بعد میں بے مصرف سمجھ لیا جائے۔ پی پی آر اے کے قاعدہ 42 جیسے اصولوں کے تحت، جو ملکیتی یا دانشورانہ ملکیت سے محفوظ اثاثوں کے لیے براہ راست معاہدے کی اجازت دیتا ہے، سرکاری شعبے کے قواعد میں یہ لازمی ہونا چاہیے کہ کسی بھی بڑے ساختی، ایم ای پی یا فائر سپریشن نظام میں تبدیلی کے منصوبے میں اصل ڈیزائن کنسلٹنٹ یا نامزد ای او آر سے مشاورت یا اس کی باضابطہ رضامندی حاصل کی جائے۔
اسی طرح تیسرے فریق کے ٹھیکیداروں کو قانونی طور پر اس بات سے روکا جانا چاہیے کہ وہ شعبہ جاتی ای او آر کی باضابطہ اور دستاویزی تصدیق کے بغیر ایسے کام کے لیے ٹینڈر دیں یا اسے انجام دیں جو انسانی جان کے تحفظ کے بنیادی نظاموں کو متاثر کرتا ہو۔ اس سے وہ قانونی خلا ختم ہوگا جس کے ذریعے کوئی ادارہ منزل بہ منزل، اصل ڈیزائن کو سمجھنے والے کسی بھی ماہر سے مشاورت کیے بغیر اپنی عمارت کے خطرے کی سطح کو خاموشی سے تبدیل کرتا رہتا ہے۔
قانونی شکل دینا: مجوزہ قانونی شق کا مسودہ
اس نظام کو قانونی قوت دینے کے لیے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے بائی لاز اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسے صوبائی و بلدیاتی اداروں کے زیرِ نفاذ تعمیراتی ضابطوں میں درج ذیل خطوط پر ترامیم کی جانی چاہئیں۔
سیکشن ایکس۔1: قانونی انجینئر آف ریکارڈ (ای او آر) کا تقرر اور عمارت کی پوری مدتِ کار کی انجینئرنگ نگرانی
(الف) لازمی تقرری۔ کسی بھی سرکاری، تجارتی، صنعتی یا کثیر خاندانی رہائشی عمارت کو تکمیل و استعمال کا سرٹیفکیٹ اس وقت تک جاری نہ کیا جائے جب تک متعلقہ ہر شعبے، یعنی ساختی، مکینیکل/ایچ وی اے سی، برقی اور فائر پروٹیکشن، کے لیے لائسنس یافتہ پیشہ ور انجینئر کو باقاعدہ طور پر انجینئر آف ریکارڈ مقرر نہ کردیا جائے۔
(ب) تبدیلیوں کی لازمی منظوری۔ عمارت کی پوری مدتِ کار کے دوران ساختی سالمیت، برقی طلب، فائر کمپارٹمنٹیشن یا دھوئیں کے انتظام کو متاثر کرنے والی کوئی بھی توسیع، تبدیلی، بوجھ میں ردوبدل یا ترمیم اس شعبے کے نامزد ای او آر کے پیشگی تحریری جائزے، مہر شدہ حسابات اور باضابطہ منظوری کے بغیر نہ کی جائے۔
(ج) خریداری کے نظام پر بالادستی۔ کیو سی بی ایس یا ایل سی ایس سمیت تمام تجارتی انتخاب کے طریقہ کار صرف کنسلٹنٹس کی تجارتی خدمات حاصل کرنے تک محدود ہوں گے اور کسی بھی صورت نامزد ای او آر کے قانونی اختیار، قانونی ذمے داری یا منظوری کے حقوق کو ختم، معطل یا محدود نہیں کرسکیں گے۔
(د) نگرانی کی باضابطہ منتقلی۔ اگر اصل ای او آر دستیاب نہ رہے یا اسے ذمے داری سے سبکدوش کردیا جائے تو قانونی نگرانی صرف اس وقت نئے ای او آر کو منتقل کی جاسکے گی جب اسے متعلقہ مجاز اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ کرایا جائے، مہر شدہ ماہرین کے جائزے کا آڈٹ مکمل ہو اور پیشہ ورانہ ذمے داری باضابطہ طور پر قبول کرلی جائے۔
(ہ) نفاذ اور سزائیں۔ مذکورہ ذیلی شقوں (الف) تا (د) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی عمارت کو استعمال یا چلانا قانونی جرم تصور کیا جائے، جس کی سزائیں عمارت کی نوعیت اور درجہ بندی کے مطابق مقرر کی جائیں اور اتنی سخت ہوں کہ ای او آر کے جائزے سے بچ کر بچائی گئی کسی بھی لاگت سے زیادہ ہوں، تاکہ موجودہ نظام میں قواعد سے انحراف کی مالی ترغیب ختم کی جاسکے۔
ساختی اصلاح کی ناگزیر ضرورت: ای او آر قانون فوری نافذ کیا جائے
پی آئی ایم ایس اور ساہیوال کے سانحات، پارلیمنٹ ہاؤس میں دو مرتبہ لگنے والی آگ، علی انٹرپرائزز کا ہولناک آتش گیر سانحہ اور گل پلازا کا انہدام الگ الگ واقعات نہیں۔ یہ سب پاکستان میں تعمیر ہونے والی ہر قسم کی عمارت میں بار بار دہرائی جانے والی ایک ہی ناکامی کی مختلف شکلیں ہیں۔ عجلت میں کی جانے والی معطلیاں اور 24 گھنٹے میں حقائق جاننے کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹیاں اس شخص کی نشاندہی تو کرسکتی ہیں جو بوسیدہ ہوتی عمارت کی خرابی کو بروقت نہ دیکھ سکا، مگر وہ اگلے اسپتال، فیکٹری، قانون ساز ادارے یا شاپنگ پلازا کو برسوں تک اسی طرح خاموشی سے بوسیدہ ہونے سے نہیں روک سکتیں۔
اس نوعیت کی عوامی حفاظت کبھی کبھار سانحے کے بعد ہونے والی تحقیقات سے حاصل نہیں ہوسکتی، اور نہ ہی صرف خریداری کے طریقہ کار میں معمولی تبدیلیاں اس کا حل ہیں۔ یہ صرف ایک اقدام سے ممکن ہے: ایسا قانون جو کسی نامزد، لائسنس یافتہ انجینئر کو عمارت کے قائم رہنے تک اس کے حفاظتی نظام کی مستقل، ذاتی اور پیشہ ورانہ ذمے داری سونپ دے۔ یہی وہ کام ہے جو انجینئر آف ریکارڈ انجام دیتا ہے اور پاکستان کے موجودہ ضابطہ جاتی نظام میں کوئی دوسرا طریقہ یہ ذمے داری پوری نہیں کرتا۔ کیو سی بی ایس میں اصلاحات، پی پی آر اے میں ترامیم اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے بائی لاز کو مضبوط بنانا اہم ہیں، مگر یہ سب صرف ای او آر کے بنیادی نظام کے معاون ڈھانچے کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کا متبادل نہیں۔
جب تک پاکستان انجینئر آف ریکارڈ کو قانونی طور پر لازم نہیں کرتا—تمام شعبوں میں یکساں طور پر قابلِ اطلاق، ہر انجینئرنگ شعبے کے لیے الگ، خریداری کے طریقہ کار سے بالاتر اور مؤثر سزاؤں کے ذریعے قابلِ نفاذ—اس کے اسپتال، اسکول، فیکٹریاں، قانون ساز ادارے اور رہائشی عمارتیں ایسے سانحات کے خطرے سے دوچار رہیں گی جنہیں اصولاً روکا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد کے 14 خاندان، ساہیوال کے مزید 11 خاندان اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران فیکٹریوں اور پلازوں میں آتش زدگی کے سینکڑوں متاثرین پہلے ہی اس قانونی خلا کی قیمت ادا کرچکے ہیں۔ پارلیمان کو اس مسئلے کے مطالعے کے لیے ایک اور کمیشن کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے اوپر بیان کردہ ای او آر کی قانونی شقیں منظور کرنی ہیں۔ اب قانون ساز ادارے کی ذمے داری ہے کہ وہ اس قانونی خلا کو پُر کرے، اس سے پہلے کہ یہ ایک اور جان لے۔