خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ اجلاس منسوخ کردیا، حوثیوں کا سعودی عرب پر نیا حملہ
- سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم بحری گزرگاہوں کو خطرات لاحق ہوگئے
خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کو ایران کے ساتھ طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر نیا حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جاری لڑائی نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ایک اور محاذ تک پھیلا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ حالیہ دنوں میں یمن پر سعودی عرب کے سیکڑوں فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
سعودی حکام نے خمیس مشیط اور ملک کے جنوبی حصے کے تین دیگر شہروں میں ہنگامی الرٹ جاری کیے، جو اس سے قبل بھی حوثیوں کے حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔
حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن میں برق رفتاری سے پیش قدمی کی، جس کا اختتام جمعہ کو بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک جزیرے پر قبضے کی صورت میں ہوا۔ اسی روز ہونے والے ایک الگ حملے میں سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جسے ریاض نے عراق میں موجود حوثیوں سے منسوب کیا۔ یہ پائپ لائن مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے اور اس کے ذریعے بند آبنائے ہرمز کو بائی پاس کیا جاتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ہفتے کے اختتام پر پیش آنے والے واقعات کے بعد پیر کو مارکیٹ دوبارہ کھلی تو خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ بینچ مارک برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ امریکا میں سیاسی طور پر حساس ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت بھی نئی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی اور 6.23 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی پائپ لائن چند روز سے زیادہ بند رہی تو عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ خلاء سے لی گئی تصاویر میں پائپ لائن کے بعض حصوں کو آتش زدگی سے نقصان پہنچنے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ ریاض نے تاحال پائپ لائن کی بندش کی مدت کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ نہیں دیا۔
عمان کو پیر کو ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ ایک اجلاس کی میزبانی کرنا تھی، جس میں دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات پر تبادلہ خیال ہونا تھا۔ فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔
تاہم عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے رات گئے اعلان کیا کہ اجلاس کو ’’اتفاقِ رائے کے مفاد میں‘‘ ملتوی کردیا گیا ہے۔ ایران نے کہا کہ اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست سعودی عرب کی جانب سے کی گئی تھی۔
دریں اثنا، ایران نے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں آپریشن سے متعلق اس کے ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ ایران کے مطابق فہرست میں شامل کسی بھی جہاز کو ’’مستقبل میں آبنائے سے گزرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں جرمانہ، حراست یا ضبطی بھی شامل ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز سے کتنی مقدار میں تیل گزر رہا ہے، اس کی درست تصدیق مشکل رہی ہے، کیونکہ جو بحری جہاز آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، وہ اکثر اپنے ٹرانسپونڈرز بند کردیتے ہیں اور دوسری جانب پہنچ کر اپنا کارگو دیگر بحری جہازوں میں منتقل کردیتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے پیر کو کہا کہ امریکی حمایت سے آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں کی اوسط تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم آزاد نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس ماہ تیل کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ اگست میں نسبتاً پُرسکون رہنے کے بعد دوبارہ لڑائی میں شدت آگئی ہے۔
جنگ کا یمن تک پھیلاؤ ٹرمپ کے لیے مشکل صورتحال کا باعث
یمن میں لڑائی میں اضافے نے واشنگٹن کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے، جو اپنے سعودی اتحادیوں کی مدد کے لیے دباؤ میں ہے، تاہم وہ اس مہنگی جنگ کو ایک نئے محاذ تک پھیلانے سے گریزاں بھی ہے۔
سعودی عرب نے 2014ء میں پہاڑی جنگجوؤں کی جانب سے یمن کے دارالحکومت پر قبضے کے کچھ ہی عرصے بعد حوثیوں کے خلاف لڑنے والے عرب اتحاد کی قیادت سنبھالی تھی۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جنگ بندی کے تحت وہاں لڑائی بڑی حد تک پُرسکون رہی، تاہم اب دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی ہے اور حوثی جنوب میں قائم سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز کو پسپا کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اندازے کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے اب تک 82 ہزار یمنی شہری لڑائی سے فرار ہوچکے ہیں، کیونکہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر کی تاریخی بندرگاہ المخا سمیت متعدد شہروں کی جانب پیش قدمی کی۔
طائز کے قریب حکومت کے زیرِ قبضہ علاقے میں کیتلی گرم کرنے کے لیے لکڑیاں جلا رہی ایک معمر خاتون عائشہ محمد نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنی دو بیٹیوں اور تین بیٹوں کو پیچھے چھوڑ آئی ہیں، جو فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
انہوں نے کہا، ’’وہ کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے بازار تک بھی نہیں جاسکتے۔ انہیں راستے میں روکا اور نشانہ بنایا جارہا ہے، اس لیے وہ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ وہ ہم تک نہیں پہنچ سکتے اور ہم ان کے پاس واپس نہیں جاسکتے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔‘‘
جمعہ کو حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع آبنائے باب المندب، جسے ’’گیٹ آف ٹیرز‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میں موجود جزیرہ پریم پر قبضہ کرلیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قلت دور کرنے اور تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے جنگ ختم کرائیں، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی ریپبلکن پارٹی کے سیاسی مفادات کو متاثر کررہی ہیں۔
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کو جدہ میں امریکی علاقائی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی۔
تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن نے اب تک ولی عہد کی یمن میں مداخلت کی درخواستیں مسترد کی ہیں اور صرف انٹیلی جنس فراہم کرنے تک محدود رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر تصدیق کی کہ انہوں نے ولی عہد سے بات کی تھی اور بتایا کہ حوثیوں نے بھی فون کرکے واشنگٹن سے تنازع سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔
امریکا نے 2025ء میں دو ماہ تک حوثیوں کے خلاف بمباری کی تھی، تاہم ٹرمپ نے اس گروپ کے ساتھ جنگ بندی کے بعد یہ مہم ختم کردی تھی۔ ان کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ٹرمپ، جو آئرلینڈ میں اپنے ایک ریزورٹ میں گالف ٹورنامنٹ میں شریک تھے، نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوجائے گی، جس کے بعد تیل کی قیمت ’’چٹان کی طرح نیچے گر جائے گی۔‘‘