وزیراعظم شہباز شریف کا موٹرسائیکل، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ایندھن ریلیف کا اعلان
- موٹرسائیکل اور رکشہ صارفین کو 20 لیٹر پٹرول پر، جبکہ 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر ریلیف ملے گا
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا اعلان کردیا۔
اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور دیگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔ 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان بھی ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کے اہل ہوں گے۔
اسکیم کا اطلاق اسلام آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہوگا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں اس کا نفاذ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے شروع ہوگا۔ اسکیم کے لیے رجسٹریشن اتوار سے شروع کردی گئی ہے، جبکہ رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات آگاہی مہم کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو پوری طرح سمجھتی ہے اور مشکل صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے ریلیف اسکیم کے تحت رجسٹریشن میں سہولت کے لیے موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد اضافے کا امکان برقرار رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ کی بحری گزرگاہوں کے قریب حملوں کے باعث سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھنے سے امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 3.02 ڈالر یا 2.81 فیصد کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
وفاقی حکومت نے رواں سال کے آغاز میں اپریل کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا تھا، جب وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کو اپنی گاڑیاں اپنے نام پر رجسٹر کرانے کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد خصوصی فیول سپورٹ پروگرام کی راہ ہموار کرنا تھا، جس کے ذریعے کم آمدنی والے مسافروں کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام سے ملک بھر میں موٹرسائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹل بنانے میں مدد ملے گی اور مستقبل میں ان کے مالکان حکومتی ریلیف اقدامات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انہوں نے اس سلسلے میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز سے رابطہ کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
عوام کو عالمی اقتصادی بحران کے بڑھتے اثرات سے تحفظ دینے کی مربوط کوششوں کے تحت پنجاب اور سندھ حکومتوں نے 3 اپریل کو بڑے پیمانے پر ایندھن سبسڈی اور مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات پر مشتمل ریلیف پیکیجز کا اعلان کیا تھا۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تاریخی اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں اورنج لائن اور میٹرو بس سمیت تمام بڑے شہری ٹرانزٹ سسٹمز کے کرایوں کی مکمل معافی کے ساتھ زرعی شعبے کے لیے ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کی نمایاں سبسڈی بھی شامل تھی۔
وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اور ریلیف روڈ میپ کی طرز پر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی صوبائی سطح پر خصوصی پروگرام کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت بڑھتی ہوئی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سندھ بھر میں رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالکان کو ماہانہ 2,000 روپے براہ راست نقد سبسڈی دینے کی تصدیق کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی تھی کہ سندھ میں ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالک کو ماہانہ 2,000 روپے سبسڈی دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے محکمہ ایکسائز نے خصوصی موبائل ایپلی کیشن تیار کی تھی، جس میں شہری اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کرکے رقم حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔