✕
پاکستان

وزیراعظم کا درآمد شدہ چینی برآمد کرنے کے فیصلے کا دفاع

  • یہ اقدام چینی کی میعاد ختم ہونے کے باعث ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے درآمد شدہ تقریباً 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چینی کی میعاد ختم ہونے کے باعث ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال چینی درآمد کرنے کا فیصلہ ملک میں وافر دستیابی یقینی بنانے اور صارفین کو قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ کو درآمد شدہ چینی اور اس کی مجوزہ برآمد سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 2024-25 کے کرشنگ سیزن میں گنے کی پیداوار گرمی کی لہر، فصلوں کی بیماریوں اور دیگر عوامل کے باعث تقریباً 15 فیصد کم ہوئی، جس سے چینی کی مقامی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جون 2025 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک سفید کرسٹل چینی درآمد کرنے کی اجازت دی، تاہم ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ستمبر سے نومبر 2025 کے دوران 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی۔

اس میں سے تقریباً 1 لاکھ 92 ہزار میٹرک ٹن مقامی مارکیٹ میں فروخت ہوئی، جبکہ 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن اب بھی ٹی سی پی کے ذخائر میں موجود ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چینی کی دو سالہ میعاد ختم ہونے کے قریب ہے، اس لیے اسے فوری طور پر فروخت کرنا ضروری ہے۔

مقامی مارکیٹ میں درآمد شدہ چینی کی فروخت سے تقریباً 50 سے 55 روپے فی کلو کا نقصان متوقع تھا، جبکہ ذخیرہ شدہ چینی پر ٹی سی پی کو ماہانہ 20 کروڑ روپے سے زائد مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے باقی چینی بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے برآمد کرنے کی تجویز دی ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے حکومت کی بار بار غلط چینی تخمینوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں طلب و رسد کے تخمینے مضبوط اعداد و شمار اور مارکیٹ رجحانات کی بنیاد پر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں 1 لاکھ 92 ہزار میٹرک ٹن فروخت شدہ چینی کے تقریباً 15 ارب روپے کے واجبات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026