✕
کاروبار اور معیشت

یونٹی فوڈز کیس : حکام کی ضمانت مسترد، عدالتی کارروائی 12 ستمبر تک ملتوی

  • ایس ای سی پی کے مطابق عدالت نے کارروائی 12 ستمبر تک ملتوی کردی
شائع اپ ڈیٹ

یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے چار موجودہ اور سابق عہدیدار وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اربوں روپے کے کارپوریٹ جرائم کیس میں ضمانت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد بدستور زیرِ حراست ہیں۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق مقررہ عدالتی کارروائی 12 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

ضمانت کے لیے درخواست دینے والوں میں یونٹی فوڈز کے سابق چیف فنانشل آفیسر جلیس ایدھی، ڈائریکٹر صفدر سجاد، سابق ڈائریکٹر عبدالمجید غازیانی اور عامر شہزاد شامل ہیں۔ عامر شہزاد یونٹی فوڈز کے ڈائریکٹر اور بعد ازاں اس کے ذیلی ادارے سن رِج فوڈز کے چیف ایگزیکٹو بھی رہے۔

یہ پیش رفت 29 اگست کو کراچی میں ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کی جانب سے یونٹی فوڈز کے سابق چیف ایگزیکٹو فرخ امین اور کمپنی کے دیگر موجودہ و سابق عہدیداروں کے خلاف درج ایف آئی آر کے بعد سامنے آئی ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق ریگولیٹر کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس کی بنیاد پر کیس درج کیا گیا، جس میں اس کی تحقیقات کے دوران امانت میں خیانت، اکاؤنٹس میں جعل سازی، کمپنی اور شیئر ہولڈرز کے فنڈز کے غلط استعمال اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آئے۔

فرخ امین کو اس سے قبل کراچی کے ایک مجسٹریٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے جاری کردہ حفاظتی حکم کے پیش نظر ایف آئی اے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

انہیں ضمانتی مچلکے جمع کرانے، تحقیقات میں تعاون کرنے اور اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ دیگر چار ملزمان کو تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے ضمانت کی درخواستیں دائر کیں۔

کیس میں ایک اہم الزام یونٹی فوڈز کی شائع شدہ مالیاتی معلومات اور کمپنی کے اندرونی ایس اے پی ریکارڈز کے درمیان تقریباً 44.7 ارب روپے کے فرق سے متعلق ہے۔

تحقیقات میں مبینہ طور پر 5.2 ارب روپے کی انوینٹری کی کمی، تقریباً 5 ارب روپے کی ایسی وصولیاں جن کے عوض سامان کی ترسیل کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور مخصوص توسیعی منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے 3.75 ارب روپے کے رائٹس ایشو میں سے تقریباً 2.87 ارب روپے کے مبینہ انحراف کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

ایف آئی اے سابق چیف ایگزیکٹو کی والدہ سے متعلق 5.318 ارب روپے کی مبینہ ادائیگیوں، دیگر متعلقہ فریقوں کے لین دین اور یونٹی فوڈز کے فنڈز و وسائل کو منسلک اداروں کے لیے ممکنہ طور پر استعمال کیے جانے کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔

یونٹی فوڈز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی ہے، جس کے تقریباً 34 فیصد حصص عوام کے پاس ہیں۔ سنگاپور میں قائم ولمار انٹرنیشنل کے پاس تقریباً 42 فیصد، جبکہ فرخ امین اور ان کے خاندان کے پاس تقریباً 24 فیصد حصص ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق اس کیس کے عوامی شیئر ہولڈرز اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر بھی وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ ولمار نے یونٹی فوڈز میں اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے 150 ملین ڈالر کی پروویژن تسلیم کی ہے۔

علاوہ ازیں یونٹی فوڈز سے متعلق کئی ریگولیٹری مقدمات سول عدالتوں، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔

ان میں ایس ای سی پی کے تحقیقاتی احکامات کو چیلنج کرنے، کمپنی کے حصص میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ اور الصہیر کارپوریشن لمیٹڈ کے مجوزہ ٹیک اوور سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔