✕
رائے

کیا پاکستان کے ہوائی اڈے نجکاری کا مقابلہ کر پائیں گے؟

  • ماضی میں بڑے ہوائی اڈوں کی آمدنی سے چھوٹے ہوائی اڈوں کو سہارا ملتا رہا، نجکاری کے بعد علاقائی ہوائی اڈوں کی مالی پائیداری اور ضروری فضائی رابطہ برقرار رکھنا اہم چیلنج ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد پاکستان اپنے ہوا بازی کے شعبے کی تاریخ کی اہم ترین تبدیلیوں کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بڑے ہوائی اڈوں کی نجکاری کا مقصد انفرااسٹرکچر میں بہتری، مسافروں کے لیے سہولتوں میں اضافہ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اس امید افزا صورتحال کے پسِ پردہ ایک بنیادی معاشی سوال موجود ہے، جس پر حیرت انگیز طور پر عوامی سطح پر بہت کم توجہ دی گئی ہے، یعنی بڑے ہوائی اڈوں کی نجکاری کے بعد پاکستان کے باقی ماندہ ہوائی اڈوں کے نیٹ ورک کی مالی پائیداری پر کیا اثر پڑے گا؟

اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے میں نے 2009 سے 2019 تک کی مدت پر مشتمل ایک آزاد مالیاتی تجزیہ کیا، جس میں اُس وقت کی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی جانب سے شائع کردہ دستیاب آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں سے استفادہ کیا گیا۔

مقصد محض تاریخی مالی کارکرد کا جائزہ لینا نہیں تھا بلکہ نجکاری کے تناظر میں پاکستان کے ہوائی اڈوں کے کاروبار کی بنیادی معاشی صورتحال کو سمجھنا تھا۔ اگرچہ یہ تجزیہ منافع بخش ہونے کے تناسب کی گہرائی سے جانچ تک کیا گیا، تاہم اس مضمون میں اس کے چند اہم نتائج پیش کیے جا رہے ہیں۔

بدقسمتی سے سابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) میں تقسیم کیے جانے کے بعد یہ تاریخی مالیاتی گوشوارے سرکاری ویب سائٹس پر عوام کے لیے دستیاب نہیں رہے۔

مزید برآں ادارہ جاتی تنظیمِ نو کے باوجود بعد کے برسوں کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے بھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں رہے، حالانکہ توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم 2025 تک کے مالیاتی گوشوارے جاری ہوچکے ہوں گے۔

زیادہ مالیاتی شفافیت نہ صرف باخبر عوامی بحث میں معاون ثابت ہوگی بلکہ پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، محققین اور پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری میں دلچسپی رکھنے والے دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے بھی مفید ہوگی۔

تجزیے میں شائع شدہ مالیاتی گوشواروں کو محض من و عن قبول کرنے کے بجائے رپورٹ شدہ اعداد و شمار کو ایڈجسٹ کیا گیا، تاکہ ہوائی اڈوں کے آپریشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فضائی نیوی گیشن خدمات اور جائیدادوں کی بار بار کی جانے والی ازسرنو مالیت سے حاصل ہونے والے منافع سے الگ کیا جاسکے۔ اس طریقہ کار سے ہوائی اڈوں کی بنیادی مالیاتی کارکردگی کی زیادہ واضح تصویر سامنے آتی ہے، خصوصاً نجکاری کے بعد کے ماحول میں، جہاں نیوی گیشن خدمات ریگولیٹر کے پاس برقرار رہ سکتی ہیں جبکہ ہوائی اڈوں کے آپریشنز نجی شعبے کو منتقل کیے جاسکتے ہیں۔

تجزیے کے نتائج اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔

تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں رپورٹ شدہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ فضائی نیوی گیشن خدمات اور جائیدادوں کی ازسرنو مالیت سے حاصل ہونے والے منافع پر مشتمل رہا۔ ان مدات کو الگ کرکے جب ہوائی اڈوں کے کاروبار کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تو مالیاتی تصویر نمایاں طور پر تبدیل ہوگئی اور زیرِ تجزیہ مدت کے دوران اوسط رپورٹ شدہ آمدنی میں تقریباً 38 فیصد کمی واقع ہوئی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے ہوائی اڈے خسارے میں ہیں، بلکہ یہ اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ ہوائی اڈوں کے آپریشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی اور فضائی نیوی گیشن خدمات کی آمدنی میں فرق کیا جائے۔ جب حکومتیں مربوط سرکاری اداروں سے الگ الگ ہوائی اڈہ آپریٹرز اور ریگولیٹرز کی جانب منتقل ہوتی ہیں تو یہ فرق مزید اہم ہوجاتا ہے۔

دوران مطالعہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کے شعبے کی ایک اور ساختی خصوصیت بھی سامنے آئی ہےجس میں فضائی آپریشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بہت زیادہ انحصار شامل ہے۔ عالمی سطح پر کامیاب ہوائی اڈوں نے ریٹیل، کھانے پینے، رئیل اسٹیٹ، پارکنگ اور اشتہارات جیسی تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بنائے ہیں۔ تجزیے کے مطابق پاکستان میں آمدنی کا ڈھانچہ اب بھی بڑی حد تک ایوی ایشن سے متعلق آمدنی پر منحصر ہے، جس کے باعث تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر طویل مدتی مالی استحکام بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مسافروں کی تعداد میں اضافہ ایک اور چیلنج ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اور ایشیا پیسیفک خطے کے ہوائی اڈوں نے وبا سے قبل مسافروں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھا، تاہم پاکستان میں مسافروں کی تعداد میں اضافے کی رفتار نسبتاً محدود رہی۔ چونکہ ہوائی اڈوں کی معیشت بنیادی طور پر مسافروں کی آمدورفت پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مسافروں کی تعداد بڑھانا بھی قومی حکمتِ عملی کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

مالیاتی گوشواروں سے سامنے آنے والی ایک اور اہم بات اتھارٹی کی مسلسل مضبوط نقدی پوزیشن ہے، جس کے تحت گزشتہ برسوں کے دوران نقد رقم اور بینک بیلنس کی خاطر خواہ رقوم جمع ہوتی رہی ہیں۔ اگرچہ کسی بھی ہوائی اڈے کے آپریٹر کے لیے مناسب مالیاتی گنجائش برقرار رکھنا ضروری ہے مگر یہ ذخائر ہوائی اڈوں کے انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مسافروں کی سہولیات میں سرمایہ کاری تیز کرنے کا اہم موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

یہ سرمایہ کاری اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں کو مسلسل انتظامی اور آپریشنل مسائل کا سامنا ہے، جہاں مسافروں کو چیک اِن، امیگریشن، سکیورٹی چیک، سامان کی وصولی اور آمد کے مقامات پر اکثر رش اور بھیڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب جدید ہوائی اڈہ ٹیکنالوجیز، مثلاً سیلف سروس سہولیات، بائیومیٹرک شناخت، جدید بیگیج سسٹمز، مسافروں کی آمدورفت کے تجزیے اور مربوط ایئرپورٹ آپریشنز پلیٹ فارمز کا استعمال بھی کئی علاقائی اور عالمی ہوائی اڈوں کے مقابلے میں محدود رہا ہے۔

شاید سب سے اہم پالیسی سوال پاکستان کے علاقائی ہوائی اڈوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ماضی میں ملک کے بڑے ہوائی اڈوں نے مجموعی آمدنی اور منافع کا بڑا حصہ پیدا کیا، جس سے قومی نیٹ ورک کے متعدد چھوٹے ہوائی اڈوں کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی رہی۔ نجکاری کے عمل میں پیش رفت کے ساتھ پالیسی سازوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ضروری فضائی رابطہ اور عوامی خدمات کی ذمہ داریاں برقرار رکھتے ہوئے ان علاقائی ہوائی اڈوں کی مالی پائیداری کیسے یقینی بنائی جائے۔

ہوائی اڈوں کی نجکاری محض ایک تجارتی لین دین نہیں بلکہ اس بات کی ازسرنو تشکیل ہے کہ ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت، نگرانی اور انتظام کس طرح کیا جائے گا۔ اسی لیے مالیاتی شفافیت اور معروضی معاشی تجزیہ پالیسی سازی کے عمل کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔

اس مطالعے کا مقصد نجکاری پر تنقید کرنا نہیں۔ اس کے برعکس نجکاری سرمایہ کاری، آپریشنل کارکردگی اور مسافروں کے بہتر تجربے کے لیے اہم مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم ان مقاصد کے حصول کے لیے ہوائی اڈوں کے حقیقی معاشی ڈھانچے اور پورے ایئرپورٹ نیٹ ورک پر اس کے طویل مدتی اثرات کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان کے پاس ایک جدید اور مالی طور پر پائیدار ہوائی اڈوں کا نظام تشکیل دینے کا منفرد موقع موجود ہے۔ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوگا کہ فیصلے صرف انجینئرنگ اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی تک محدود نہ ہوں بلکہ مضبوط معاشی تجزیے کی بنیاد پر کیے جائیں۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026