✕
دنیا

اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ

  • برطانیہ غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ کاری مشن میں بھی مزید شرکت نہیں کرے گا، جبکہ بعض برطانوی حکام اور دیگر ممالک کے شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کردی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیل نے منگل کو کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمدات روکنے کے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے منصوبوں کے ردِعمل میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کررہا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ برطانیہ غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ کاری مشن میں بھی مزید شرکت نہیں کرے گا، جبکہ بعض برطانوی حکام اور دیگر ممالک کے شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا، ’’برطانیہ کا یہ اقدام اخلاقی طور پر مسخ شدہ ہے اور ایک خودمختار ریاست کے داخلی معاملات اور اس کے انتخابی عمل میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔‘‘ انہوں نے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے بیانات کو ایسے الزامات قرار دیا جو ’’انتہائی اشتعال انگیز جھوٹ‘‘ ہیں۔

مشرقِ یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے تسلیم شدہ ہے۔

ساعر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے ردِعمل سے متعلق اقدامات وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت سے طے کیے ہیں۔ اسرائیل میں اکتوبر کے اواخر میں انتخابات ہوں گے۔

تجارتی اقدامات

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے منگل کو تجویز کردہ تجارتی اقدامات اسرائیلی بستیوں کی پالیسی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں، جو اس امر کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل کے بعض روایتی اتحادیوں کے درمیان اس کی سفارتی تنہائی بڑھتی جارہی ہے۔

منگل کو مزید کئی ممالک نے عندیہ دیا کہ وہ دو ریاستی حل کے دفاع کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں، جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ پُرامن طور پر قائم ہوگی۔ اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور تشدد پر تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

ملی بینڈ نے منگل کو کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی اور مصائب کی محض ’’نشاندہی‘‘ تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ اسے بستیوں کی توسیع کی مخالفت کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے بقول بستیوں کی توسیع فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

اقوام متحدہ، فلسطینیوں اور بیشتر ممالک کے نزدیک اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں، تاہم اسرائیل اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے ایکس پر لکھا، ’’کینیڈا کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کا مؤقف رہا ہے کہ دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے، جو اسرائیل کے جائز سکیورٹی خدشات کو بھی دور کرتا ہے۔ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیاں ان مقاصد کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘

رائٹرز کی منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کے بعض انتہائی انتہا پسند آبادکاروں کو مالی معاونت فراہم کررہی ہے، جو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے غیر قانونی چوکیوں پر قائم فارم استعمال کرتے ہیں۔