✕
پاکستان

حکومت ٹیکس بوجھ کم کرنے کیلئے پرعزم ہے، بلال کیانی

  • برآمد کنندگان اور سالانہ 150 ملین سے 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباروں پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، وزیرمملکت
شائع اپ ڈیٹ

وزیر مملکت برائے خزانہ، محصولات و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے کاروباری طبقے، برآمد کنندگان، تنخواہ دار افراد اور چھوٹے تاجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے بڑے ریلیف اقدامات اور ساختی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو زیادہ شفاف، سہولت فراہم کرنے والا اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ برآمد کنندگان اور سالانہ 150 ملین سے 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباروں پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی آمدن پر ٹیکس کٹوتی بھی 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت برآمد کنندگان اور ایف بی آر کے درمیان تعلقات کو مزید مؤثر اور سہولت پر مبنی بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ایف بی آر کا نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت آڈٹ اور اسیسمنٹ کے عمل کو مرکزی اور فیس لیس بنایا جائے گا تاکہ افسران کی صوابدید، ہراساں کیے جانے اور ملی بھگت کے امکانات کم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں بھی فیس لیس سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ درآمد کنندگان اور اپریزرز کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی، فیصل آباد، لاہور اور سیالکوٹ سمیت بڑے برآمدی مراکز میں ایف بی آر سہولت ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ملتان اور حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج/سپر ٹیکس ختم کرنے کے ساتھ تقریباً تمام آمدنی کے سلیبز میں ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے بھی مشاورت کے بعد آسان ٹیکس اسکیم تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکیم میں شامل دکانداروں کو صرف سابقہ برسوں کے فرق کی بنیاد پر معمول کے آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم ایف بی آر کے سی آر ایم یا تیسرے فریق کی معلومات سے واضح بے ضابطگی سامنے آنے پر آڈٹ کیا جا سکے گا۔ تاجروں کو دکانوں کے باہر نصب کرنے کے لیے ایف بی آر پلیٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے کہا کہ ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچنا اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ CAA1 سے B3 کرنا حوصلہ افزا پیش رفت ہے، تاہم ٹیکس، کاروباری لاگت اور توانائی کے نرخ بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے صنعتی یونٹس کی مجوزہ منتقلی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ ایس ایم ایز اور موجودہ صنعتوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026