وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے درست طور پر نشاندہی کی کہ جب تک برآمد کنندگان کو سازگار کاروباری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق سازگار کاروباری ماحول سے مراد نہ صرف مناسب ملکی پالیسیاں ہیں بلکہ عالمی منڈی کے موجودہ حالات بھی اس میں شامل ہیں۔
اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والی زری اور مالی پالیسیاں جس کی تکمیل ستمبر 2027 میں متوقع ہے، مجموعی طور پر معاشی نمو اور بالخصوص نجی شعبے کی ترقی میں سنگین رکاوٹیں بن رہی ہیں۔ ان میں شامل ہیں: (1) 11.5 فیصد کی پالیسی شرح سود جو بھارت اور چین سمیت دیگر علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے؛ (2) مالی پالیسی جس کا بنیادی مقصد حکومتی آمدنی میں اضافہ ہے جس کے باعث کسٹمز ڈیوٹی پر مسلسل انحصار جاری ہے، جو ہماری اہم برآمدات کی تیاری کے لیے ضروری خام مال کی درآمدات پر منفی اثر ڈال رہی ہے؛ اور (3) آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ انتظامی اقدامات کے تحت حکومت کو بجلی اور گیس جیسی یوٹیلیٹیز کی مکمل لاگت وصولی کی شرط پوری کرنا ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور وہ علاقائی سطح پر مسابقت کے قابل نہیں رہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے اور بالخصوص برآمد کنندگان کو جو مراعات تقریباً معمول کے مطابق دی جاتی تھیں جن میں کم شرحِ سود پر قرضے، ملک کی پانچ بڑی برآمدات کے لیے زیرو ریٹنگ اور سستی بجلی کے ٹیرف شامل ہیں ان کی آئی ایم ایف نے حمایت نہیں کی۔ فنڈ نے اکتوبر 2024 کی اپنی انہی دستاویزات میں، جن کے تحت ای ایف ایف پروگرام کی منظوری دی گئی تھی، یہ منطق پیش کی تھی کہ: امداد (سبسڈی) کم لاگت کی مالی اعانت اور دیگر رعایتوں کی شکل میں دی گئی، جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں الگ الگ تھی، لیکن اس کے نتیجے میں سبسڈیز وضع کرنے کے بعد نفاذ کردہ ٹیکس اور فنانسنگ، ہم پلہ معیشتوں اور دیگر نظر انداز شدہ شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار رہی۔
ٹیکس نظام کو رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کو ٹیکس چھوٹ کے ذریعے غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے جبکہ خصوصی اقتصادی زونز کی تعداد میں اضافے کے ذریعے بھی ایسی معاونت فراہم کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیاد پر) سمیت مختلف اشیا کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں کاروباری ماحول کو جھکا دیتی رہی ہے۔
ان تمام مراعات کے باوجود کاروباری شعبہ معاشی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، جبکہ ان مراعات کے نتیجے میں بالآخر مسابقت کمزور ہوئی اور وسائل مسلسل غیر مؤثر رہنے والی صنعتوں، جن میں ہمیشہ نوخیز رہنے والی صنعتیں بھی شامل ہیں، میں پھنس کر رہ گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پالیسی فیصلوں میں سے کوئی بھی وزارتِ تجارت کے دائرۂ کار میں نہیں آتا جبکہ اس حوالے سے اہم فیصلہ ساز وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہیں جو ہر سہ ماہی جائزے تک مالی اور زری پالیسیوں سے متعلق حکومتی وعدوں کی تفصیلات پر مشتمل لیٹر آف انٹینٹ کی منظوری دیتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم آئندہ ماہ کسی وقت چوتھے جائزے پر مذاکرات شروع کرنے والی ہے جس کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا، تاہم خدشات موجود ہیں کہ فنڈ ایسی ہی زری اور مالی پالیسیوں پر اصرار کرسکتا ہے جو معاشی نمو اور ہماری برآمدات کو متاثر کرسکتی ہیں۔
یہ تخمینہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بندش کو مدنظر نہیں رکھتا۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف خلیجی ممالک کو ہماری برآمدات میں شدید کمی کا خدشہ ہے بلکہ ہماری زیادہ تر صارفین پر مبنی برآمدات کی طلب میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کے خلاف ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے یا نہیں کیونکہ ایسی صورت میں زمینی راستے سے ہونے والی ہماری برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔
جام کمال خان نے مزید کہا کہ وزارتِ تجارت نے نیشنل ایکسپورٹ پروموشن بیورو کے قیام کی تجویز دی ہے، تاہم یہ اقدام بھی شاید اتنا ہی مؤثر ثابت ہو جتنا کہ حالیہ عرصے میں وزارتِ تجارت رہی ہے، کیونکہ اصل پالیسی فیصلے بدستور کہیں اور ہی کیے جاتے رہیں گے۔ فی الوقت یہ فیصلے صرف چوتھے اسٹاف لیول معاہدے کو یقینی بنانے کی ضرورت کے تحت کیے جا رہے ہیں کیونکہ اس معاہدے کی تکمیل سے چین اور سعودی عرب ہمارے خزانے میں موجود 10 ارب ڈالر سے زائد رقم کو مزید ایک سال کے لیے رول اوور کرنے پر آمادہ ہوسکیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026