پاکستان کے قدرتی وسائل ٹریلین ڈالر کی کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی مارکیٹ کھولنے کی صلاحیت کے حامل
- پاکستان کو منافع بخش اور سرمایہ کاری کے قابل پروجیکٹس بنانے کی ضرورت ہے،فراز خان
پاکستان میں متنوع حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل موجود ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں عالمی کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ یہ مارکیٹ ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) میں کلائمیٹ فنانس، بائیو ڈائیورسٹی، کاربن کریڈٹس اور ٹوکنائزیشن کے لیے حال ہی میں مقرر کیے گئے خصوصی مشیر فراز خان نے کیا۔
بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے لیے اپنے حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
فراز خان نے کہا کہ کاربن کریڈٹس اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکے ہیں۔ پاکستان کے حیاتیاتی تنوع پر مبنی ماحولیاتی نظام میں اس قدر زیادہ مواقع موجود ہیں کہ اسے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس سے مالی قدر پیدا کی جاسکتی ہے اور مثبت اثرات بھی مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
فراز خان کو 2023 میں برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے خدمات کے اعتراف میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر سے نوازا گیا تھا۔ وہ پائیداری کے شعبے سے وابستہ ماہر ہیں اور اس میدان میں 2 دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پاکستانی وراثت ان کے نئے عہدے میں ایک اہم اثاثہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بائیو ڈائیورسٹی ایک وسیع تر تصور ہے جو کاربن کریڈٹس سے آگے بڑھ کر پانی، جنگلات، غذائی تحفظ اور سرکلری سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاربن مارکیٹس کاروباری اداروں کو اپنے اخراج میں کمی لانے یا اس کی تلافی کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی کاربنائزیشن سے مراد اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کاروبار یا صنعت اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا چاہے اور اس مقصد کے لیے ضوابط یا اپنے طے کردہ اہداف کے مطابق اقدامات کرے تاکہ اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لائی جاسکے۔
دوسری جانب آف سیٹنگ کے ذریعے کاروباری ادارے باقی ماندہ اخراج کی تلافی ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے کرتے ہیں جن میں جنگلات اور قدرت پر مبنی دیگر اقدامات شامل ہیں۔
فراز خان کے مطابق پاکستان کو اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاربن منصوبوں کی ایک رجسٹری قائم کرنے اور کاربن کریڈٹس کے معیار کی مضبوط تصدیق کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں قائم کیے گئے ایکسچینجز، جہاں رضاکارانہ کاربن مارکیٹ (وی سی ایم) شروع کی گئی ہے اور مقامی اداروں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹس خریدے جاتے ہیں، کو پاکستان میں بھی نقل کیا جاسکتا ہے۔
فراز خان نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ، فنڈز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور دیگر اداروں کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا تاکہ اس نوعیت کی ایکسچینجز قائم کی جاسکیں اور کاربن و بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
ان کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان موسمیاتی اہداف کے حصول، گرین سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے لیے اپنی کاربن مارکیٹ کو ایک اہم حکمت عملی کے طور پر فعال طور پر ترقی دے رہا ہے۔
دسمبر 2024 میں وفاقی کابینہ نے کاربن مارکیٹ میں تجارت کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی۔ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت وفاقی رہنما اصولوں کی منظوری کے بعد پاکستان کی کاربن مارکیٹس 2025 کے اوائل میں فعال ہوگئیں۔
گزشتہ سال حکومت پاکستان نے ضروری سرمایہ حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا خودمختار گرین سکوک بھی جاری کیا۔ فراز خان نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف سکوک پاکستان میں کلائمیٹ فنانس سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس طرح کا ایک مالیاتی ذریعہ شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے سکتا ہے۔
فراز خان نے کہا کہ پاکستان کا ریگولیٹری ماحول بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پاکستان گرین ٹیکسانومی، گرین بینکنگ گائیڈ لائنز اور آئی ایف آر ایس ایس ون اور ایس ٹو بھی نافذ ہوچکے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق پاکستان کو ایسے منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری ہوں، اور یہی بین الاقوامی کلائمیٹ کیپیٹل حاصل کرنے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے، وہ ایسے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی ایک پائپ لائن تیار کرنا ہے جو عالمی دائرہ ہائے اختیار، سرمایہ کاروں کے مینڈیٹ اور مقامی ضوابط سے بھی ہم آہنگ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لہٰذا ایسے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی تشکیل اور پھر انہیں درست مینڈیٹ رکھنے والے مناسب سرمایہ کاروں تک پہنچانا اگلا قدم ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اس سفر کا آغاز کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
تاہم فراز خان کے مطابق کلائمیٹ فنانس محض مالی منافع حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں لچک پذیری ، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور موسمیاتی موافقت کے ذریعے قابلِ پیمائش مثبت اثرات پیدا کرنا بھی شامل ہے۔
عالمی سطح پر بائیو ڈائیورسٹی فنانس پر توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ پالیسی ساز اور سرمایہ کار فطرت سے متعلق خطرات کو تیزی سے تسلیم کر رہے ہیں۔ جون میں نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ حیاتیاتی تنوع میں کمی اور ماحولیاتی نظام کی تباہی کے خودمختار قرضوں کی کریڈٹ حیثیت اور مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر 83 ٹریلین ڈالر کے خودمختار قرضے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
فراز خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے موقع اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ملک کے ابھرتے ہوئے کلائمیٹ فنانس ایکو سسٹم کو او آئی سی ممالک، یعنی سعودی عرب اور شام کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جائے۔
فراز خان نے کہا کہ آج کی دنیا میں پاکستان کا برانڈ اور اس کی پوزیشن یقینی طور پر ایک ایسی طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا برانڈ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہم ایک بہت، بہت اچھی جگہ پر ہیں۔
انہوں نے آئی سی سی ڈی میں اپنے کردار کے لیے 3 فوری ترجیحات کی نشاندہی کی: علم کے خلا کو پُر کرنا اور کلائمیٹ فنانس کے تصورات کو آسان بنانا، موزوں منصوبوں کی جانب کلائمیٹ فنانس سرمایہ کاروں کو متحرک کرنا، اور حقیقی مالی لین دین کو ممکن بنانا۔
فراز خان نے کہا کہ تاریخی طور پر کلائمیٹ ٹرانزیشن اور کلائمیٹ فنانس کے بارے میں بہت بات کی جاتی رہی ہے، لیکن حقیقی لین دین کا حجم ان گفتگوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی صلاحیت کو قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنا اس موقع کو حقیقی مالیاتی بہاؤ میں بدلنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔