✕
دنیا

ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیاں، تہران کی تیل برآمدات بند کرنے کی دھمکی

  • اگر معاشی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز سمیت خلیج فارس کے کسی بھی راستے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کیا جائے گا، محسن رضائی
شائع اپ ڈیٹ

امریکا نے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے پیر کو ایران کے تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنانے والی نئی معاشی پابندیوں کے اعلان کی تیاری کرلی، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ معاشی جنگ جاری رہی تو خلیج سے تیل کی تمام برآمدات بند کردی جائیں گی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت اور مالیاتی نظام سے روابط رکھنے والے ممالک کو بھی نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ اگر معاشی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز سمیت خلیج فارس کے کسی بھی راستے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی معاشی اقدامات کی حمایت یا ان میں شرکت کرنے والے ممالک کو بھی جنگ میں فریق قرار دینے کی دھمکی دی۔

امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے براہِ راست فوجی حملے نہیں ہوئے، تاہم چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بامعنی مذاکرات بھی نہیں ہوسکے۔ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید اقتصادی دباؤ سے مہنگائی، معاشی مشکلات اور بے چینی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب چین نے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کے حل میں معاون نہیں اور سفارت کاری پر زور دیا۔

پاکستان، قطر اور ترکیہ سمیت دیگر ممالک کشیدگی کم کرنے اور امریکا، ایران مذاکرات بحال کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کرکے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی پابندیوں کے معاملے پر بات کریں گے۔