امریکا کی نئی ایرانی پابندیوں کے اعلان سے قبل تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے سودے 1.71 ڈالر، یعنی 1.81 فیصد کمی سے 92.69 ڈالر فی بیرل پر آگئے
خام تیل کی قیمتیں پیر کو فی بیرل 2 ڈالر سے زیادہ گر گئیں۔ حالیہ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے اور ایران پر متوقع نئی امریکی پابندیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے انتظار کے باعث قیمتوں میں کمی ہوئی۔ نئی پابندیاں مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں مزید خلل ڈال سکتی ہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے دوپہر 12:48 بجے (مشرقی امریکی وقت) 1.71 ڈالر یا 1.81 فیصد کمی سے 92.69 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.72 ڈالر یا 1.98 فیصد کمی سے 85.34 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دونوں معاہدوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسری ہفتہ وار بڑھوتری ریکارڈ کی گئی اور قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی، جو ماضی میں عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ لے جانے والی اہم گزرگاہ تھی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر ایک بجے (مشرقی امریکی وقت) پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں توقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ممکنہ ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے اقدامات کی تفصیلات بتائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
پی وی ایم کے تجزیہ کار تامس وارگا نے کہا، ’’اگر اعلان کردہ پابندی کا نفاذ شروع کردیا گیا تو خطے سے تیل کی رسد کم ہوجائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایران مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات پر تازہ حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔
ایران نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ امریکی اعلان سے قبل پاکستان کے آرمی چیف پیر کو ثالثی کے لیے مذاکرات کی غرض سے تہران کے دورے پر تھے۔
پیر کو جاری ہونے والے شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر 20 سے بھی کم اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، کیونکہ ایرانی اور امریکی ناکہ بندیوں کے باعث توانائی کی ترسیل کی اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت محدود ہے۔
ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک پوئیانے نے کہا کہ کمپنی آبنائے ہرمز کے راستے منافع بخش انداز میں تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، تاہم خام تیل پیدا کرنے والوں کی جانب سے دی جانے والی بھاری رعایتیں اس اضافی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔
تاجروں کے مطابق عراق کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنی سومو اور قطر انرجی نے بھی ٹینڈرز میں آبنائے ہرمز کے اندر سے لوڈنگ کے لیے خام تیل کی پیشکش کی ہے۔
ایس ای بی کے تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے رائٹرز کو بتایا، ’’120 سے 150 ڈالر کے بجائے برینٹ کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور مجموعی طور پر خلیج فارس سے کافی مقدار میں تیل گزر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آسکتا ہے جب ایران راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو واقعی بند کرنے کا فیصلہ کرے۔
مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے برینٹ کی قیمتوں کے اپنے اندازوں میں اضافہ کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی میں قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے پیر کو کہا کہ ادارہ فی الحال تزویراتی ذخائر سے تیل کے دوسرے مرحلے میں اجرا پر غور نہیں کر رہا۔