✕
دنیا

طاقت کی پوزیشن میں ہیں، جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایرانی صدر

  • تہران اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھے ہوئے ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کئی ماہ سے جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ بظاہر تہران واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

دہائیوں سے ایک دوسرے کے حریف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تاحال معطل ہیں، جبکہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں دونوں فریق تعطل کا شکار ہیں۔

تہران اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھے ہوئے ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی جوابی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔

پزشکیان نے ڈاکٹروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا، ’’اب جنگ ختم کر دینا ہی بہتر ہے کیونکہ ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکا نے تمام ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے اسکولوں، اسپتالوں اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے اور دنیا بھر میں اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘

پزشکیان نے جون میں امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا بھی دفاع کیا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا مطلب تہران کی شکست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، ’’انہیں اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں مل سکتی جو ہتھیار ڈالنے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ تمام وعدے دوسرے فریق سے متعلق ہیں۔‘‘

ان کا یہ بیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس بیان کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’مختلف آرا‘‘ رکھنے کے باوجود جنگ ختم کرنے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

ایرانی پارلیمان کے سخت گیر ارکان نے بھی معاہدے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے امریکا کو رعایتیں دی ہیں، بالخصوص اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے میں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے ٹینکروں کے خفیہ قافلوں کی آمدورفت کا انتظام اور تحفظ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ 50 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تیل برآمد کیا جا رہا ہے۔

تہران کی جانب سے خود کو مضبوط پوزیشن میں قرار دیے جانے کے باوجود امریکا نے کہا ہے کہ وہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے پابندیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

امریکی منصوبے پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکا پر ’’معاشی دہشت گردی‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کا الزام عائد کیا۔

سرکاری میڈیا پر نشر کیے گئے ایک بیان میں وزارتِ خارجہ نے کہا، ’’ان پابندیوں کے نفاذ اور انہیں ہوا دینے والے عناصر ایسے سنگین جرائم کے ارتکاب پر مقدمے اور سزا کے مستحق ہیں۔‘‘

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو عزم ظاہر کیا کہ واشنگٹن پابندیوں کی مجوزہ مہم کے ذریعے ایرانی حکومت کو ’’مسمار‘‘ کر دے گا۔ یہ بیان جنگ شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران پر فوجی دباؤ کے بجائے معاشی دباؤ بڑھانے کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جبکہ امریکی صدر کی غیر مقبول جنگ طول پکڑ رہی ہے۔

چین نے بھی واشنگٹن کے معاشی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ’’پابندیاں اور دباؤ‘‘ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو حل نہیں کر سکتے۔

’معاشی ڈی ڈے‘

واشنگٹن نے بیجنگ سمیت دیگر حکومتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی معیشت کو تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہوں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بارے میں سوال پر چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’پابندیاں اور دباؤ مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور سیاسی و سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل نکالیں۔‘‘

چینی صدر شی جن پنگ 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں ایران کا معاملہ یقینی طور پر زیر بحث آئے گا، جیسا کہ مئی میں ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے کے دوران بھی ہوا تھا۔

بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف معاشی پابندیوں میں اضافے کے منصوبے کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن کے لیے ملک کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی طرف دوبارہ جانا نسبتاً کم ضروری ہو جائے گا۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف معاشی اقدامات کی مزید تفصیلات بتائیں گے۔

ایران کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی امریکی پابندیوں کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’نام نہاد ’معاشی ڈی ڈے‘ امریکا کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جسے بے مثال قرضوں اور بڑھتے ہوئے سودی اخراجات کا سامنا ہے۔‘‘