فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم، چھوٹے تاجروں کے ٹیکس ریٹرنز کیلئے موبائل ایپ متعارف
- حکومت کے مطابق اس اسکیم کا ہدف تقریباً 42 لاکھ دکاندار اور چھوٹے تاجر ہیں
حکومت نے بدھ کو چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کی موبائل ایپلی کیشن متعارف کرا دی، جس کے ذریعے وہ آسانی سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا مقصد معیشت کے ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا، ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو فروغ دینا اور قومی خزانے میں تاجروں کی شراکت یقینی بنانا ہے۔
حکومت کے مطابق اس اسکیم کا ہدف تقریباً 42 لاکھ دکاندار اور چھوٹے تاجر ہیں، جنہیں ٹیکس ریٹرن جمع کرانے اور مقررہ ٹیکس ادا کرنے کا آسان اور اختیاری طریقہ فراہم کیا گیا ہے۔
اسکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروباری فروخت رکھنے والے ریٹیلرز اپنی اعلان کردہ سالانہ فروخت کے ایک فیصد کے برابر فکسڈ ٹیکس ادا کرسکتے ہیں، تاہم کم از کم سالانہ ٹیکس 25 ہزار روپے ہوگا۔ یوٹیلیٹی بلز اور دیگر ذرائع سے پہلے ہی وصول کیا گیا ودہولڈنگ ٹیکس ان کی ٹیکس واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ ہوسکے گا۔
موبائل ایپ کے ذریعے تاجروں کے لیے پیمنٹ سلپ آئیڈینٹی فکیشن نمبر (پی ایس آئی ڈی) تیار ہوگا، جس کے ذریعے ٹیکس ادا کرکے فائلر کا اسٹیٹس حاصل کیا جاسکے گا۔
اس اسکیم میں شامل ریٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشین نصب کرنے یا ودہولڈنگ ایجنٹ بننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں معمول کے ٹیکس آڈٹ اور ٹیکس تحقیقات کے لیے ایف بی آر حکام کے دوروں سے بھی تحفظ حاصل ہوگا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ اسکیم تاجروں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں رجسٹرڈ تاجروں کو سیکیورٹی فیچر سے مزین ڈیجیٹل اور فزیکل پلیٹ فراہم کی جائے گی، جبکہ پلیٹ آویزاں کرنے والی دکان میں ایف بی آر اہلکار ٹیکس معاملات پر پوچھ گچھ کے لیے داخل نہیں ہوسکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ موبائل ایپ فی الحال اردو زبان میں دستیاب ہے اور ستمبر کے پہلے ہفتے تک پشتو، بلوچی اور سندھی زبانوں میں بھی متعارف کرائی جائے گی، جبکہ ایپل اسٹور پر اس کا ورژن بھی جلد دستیاب ہوگا۔
ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ایپ کا مقصد چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد آسان بنانا اور ہراساں کیے جانے کا خوف ختم کرنا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کامیاب ہونے کی صورت میں دسیوں ارب روپے اضافی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ اس کا بنیادی مقصد ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور محدود تعداد میں موجود ٹیکس دہندگان پر انحصار کم کرنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026