کے الیکٹرک نے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج تنازع کے حل کیلئے ایس آئی ایف سی سے مدد مانگ لی
- کے الیکٹرک نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے پہلے نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کیا اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا
کے الیکٹرک کے باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کے الیکٹرک ، پاور ڈویژن اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے درمیان صنعتی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج (آئی سی پی) کے مالی اثرات پر جاری تنازع اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) تک پہنچ گیا ہے۔
یہ معاملہ حکومت کی جانب سے نومبر 2020 میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور بجلی کی زیادہ کھپت کی حوصلہ افزائی کے لیے متعارف کرائے گئے آئی سی پی سے متعلق ہے۔ کے الیکٹرک نے نیپرا کی یکم دسمبر 2020 کو جاری کردہ منظوری کے مطابق نومبر 2020 سے جون 2021 تک اس پیکیج پر عمل درآمد کیا۔
بعد ازاں حکومت نے آئی سی پی میں جولائی 2021 سے اکتوبر 2023 تک توسیع کردی۔ تاہم کے الیکٹرک کے مطابق نیپرا کی متعلقہ منظوری پہلے فیصلے سے نمایاں طور پر مختلف تھی اور کمپنی کے 2017-2023 کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
ایس آئی ایف سی کو لکھے گئے ایک خط میں کے الیکٹرک نے کہا کہ مالی سال 2017-23 کے ملٹی ایئر ٹیرف کے تحت کمپنی کا بجلی فروخت کرنے کا ہدف 4.5 فیصد سالانہ مرکب شرح نمو (سی اے جی آر) کی متوقع شرح کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا، جبکہ فروخت کے ہدف سے کم یا زیادہ حصول کا مالی خطرہ کمپنی کے ذمے تھا۔
تاہم کنٹرول مدت کے دوران حقیقی شرح نمو تقریباً 1.5 فیصد سی اے جی آر رہی، جس کی بنیادی وجوہات کے الیکٹرک کے کنٹرول سے باہر عوامل تھے۔ کمپنی کے مطابق اس کے نتیجے میں تقریباً 39 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔
کے الیکٹرک نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ متنازع نیپرا فیصلے پر عمل درآمد سے اضافی یونٹس کو شمار نہ کیے جانے کے باعث حقیقی شرح نمو تقریباً 1.3 فیصد سی اے جی آر تک محدود ہوجائے گی، جس سے کمپنی پر مزید 4 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑے گا۔
کے الیکٹرک کے مطابق اس کے ملٹی ایئر ٹیرف 2017-23 کے برعکس واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈبلیو ڈی آئی ایس سی اوز) پر لاگو ٹیرف فریم ورک میں حقیقی بجلی کی ترسیل کے اثرات کو ٹیرف میں منتقل کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے ڈبلیو ڈی آئی ایس سی اوز کو معمولی لاگت پر فراہم کیے گئے اضافی یونٹس کو خارج کرنے سے ہونے والے مالی نقصان کا بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔
کے الیکٹرک نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے پہلے نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کیا اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں معاملہ زیرِ سماعت ہے اور حکمِ امتناع بھی برقرار ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ متنازع فیصلے کے کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت دونوں پر نمایاں مالی اثرات مرتب ہوں گے، بالخصوص متعلقہ سبسڈی کی ضروریات کے حوالے سے۔
کے الیکٹرک کے مطابق یہ معاملہ ایس آئی ایف سی سمیت کئی اعلیٰ سطحی فورمز پر زیرِ بحث آچکا ہے، جہاں صنعتی شعبے، کے الیکٹرک سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ان اجلاسوں کے دوران کے الیکٹرک، نیپرا اور پاور ڈویژن کو اپنی اپنی مالیاتی کیلکولیشنز میں مطابقت پیدا کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ تنازع کے حل کے لیے مشترکہ بنیاد قائم کی جاسکے۔
حالیہ مفاہمتی عمل کے بعد ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن مزید مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے ایک تجویز پیش کرے گا۔
کے الیکٹرک نے اب پاور ڈویژن اور ایس آئی ایف سی سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ اکٹھا کرکے اس دیرینہ تنازع کا منصفانہ اور باہمی رضامندی سے حل نکالنے میں معاونت کی جائے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا حل کاروباری اعتماد برقرار رکھنے، صنعتی مسابقت کو فروغ دینے اور کے الیکٹرک و حکومت پاکستان دونوں کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026