بجلی سستی کرنے کیلئے کابینہ کمیٹی نے این ای پی میں ترامیم اور آئی ای پی ڈیزائن منظور کرلیا
- یہ فیصلے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیے گئے
حکومت نے منگل کو نیشنل الیکٹریسٹی پلان (این ای پی) 2023-27 میں ترامیم اور 2027-60 کے لیے انٹیگریٹڈ انرجی پلان (آئی ای پی) کے اعلیٰ سطحی ڈیزائن کی منظوری دے دی، جس کا مقصد توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانا، بجلی کی لاگت کم کرنا اور صاف توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانا ہے۔
یہ فیصلے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیے گئے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹریسٹی پلان میں پیش کی گئی ترامیم میں مربوط توانائی منصوبہ بندی، بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کی صلاحیت میں توسیع، دور دراز علاقوں کو قابل تجدید بجلی کی فراہمی، سرحد پار بجلی کی تجارت، ٹیرف کے ڈیزائن اور توانائی کے تحفظ سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
نظرثانی شدہ منصوبے میں نظام اور مارکیٹ آپریشنز میں اصلاحات، خطرات کی نشاندہی اور انتظام، انتظامی امور، ایندھن اور توانائی کی ٹیکنالوجیز میں مقامی صلاحیت کی ترقی، تحقیق و ترقی اور پاور سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن بھی شامل ہے۔
کمیٹی نے ترامیم کی منظوری دے دی، تاہم پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا حکومت اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے۔
کمیٹی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی 2027-60 کے لیے انٹیگریٹڈ انرجی پلان کے اعلیٰ سطحی ڈیزائن کی رپورٹ بھی منظور کرلی۔ مجوزہ منصوبے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا اور یہ توانائی کے شعبے کے لیے طویل مدتی فریم ورک فراہم کرے گا۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد توانائی کے تحفظ اور معاشی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو قابل برداشت قیمتوں پر بجلی کی دستیابی یقینی بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔ منصوبے میں کم کاربن اور ماحول دوست توانائی و بجلی پیدا کرنے کے ذرائع پر زیادہ انحصار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
کمیٹی کو بجلی اور گیس کے شعبوں کی مالی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔
پاور ڈویژن نے مالی سال 2025-26 کے لیے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے پر اپنی رپورٹ پیش کی، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن نے اسی مدت کے لیے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق الگ رپورٹ پیش کی۔
حکام کے مطابق 30 جون 2026 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1.675 ٹریلین روپے سے 1.835 ٹریلین روپے کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا۔
جزوی بجٹ ایڈجسٹمنٹ کے بعد قرضے میں سرکاری طور پر خالص اضافہ 61 ارب روپے رپورٹ کیا گیا، جبکہ ایک الگ حساب کے مطابق اس میں 364 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ نظام کی نااہلی قرار دی گئی۔
پیٹرولیم اور گیس کے شعبے میں اصل گردشی قرضہ 1.8 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ گیس سیکٹر کی مجموعی واجبات 3.44 ٹریلین روپے سے زیادہ ہوگئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026