✕
مارکٹس

مشرق وسطیٰ میں بحران شدت اختیار کرگیا، خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 87 سینٹ، یعنی تقریباً ایک فیصد اضافے سے 91.89 ڈالر فی بیرل ہوگئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ ہوا اور قیمتیں دورانِ سیشن تین ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تمام مالی اور اقتصادی لین دین معطل کرنے کے فیصلے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازرانی بھی بدستور سست ہے، کیونکہ ایران جنگ کے دوران ناکہ بندی کے بعد اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے واضح اشارے نہ ملنے کے باعث بیشتر جہاز مالکان اس راستے سے گریز کر رہے ہیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 87 سینٹ، یعنی تقریباً ایک فیصد اضافے سے 91.89 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچرز 1.17 ڈالر، یعنی 1.4 فیصد اضافے سے 86.11 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔

دورانِ سیشن برینٹ کی بلند ترین قیمت 30 جولائی کے بعد کی بلند ترین سطح رہی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

بی او کے فنانشل کے سینئر نائب صدر برائے ٹریڈنگ ڈینس کِسلر نے کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں برقرار جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کے فیوچرز کو بدستور سہارا مل رہا ہے۔ اب متحدہ عرب امارات نے بھی کہا ہے کہ حالیہ میزائل حملوں کے باعث اس نے ایران کے ساتھ تمام مالی تعلقات منقطع کردیے ہیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا تھا کہ آبی گزرگاہ بدستور بند ہے۔

عارضی جنگ بندی کا معاہدہ پیر کو ختم ہوگیا، جبکہ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ سفارتی تعطل کے باعث ایران اپنی فوجی حکمتِ عملی کو ’’مکمل جارحانہ‘‘ پوزیشن کی جانب لے جا رہا ہے۔ تاہم منگل کو کسی بھی فریق کی جانب سے حملوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

فنانشل ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے جنگ کو مزید وسعت دی تو ایران یورپ میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔

عالمی تیل منڈی کی توجہ بدستور آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جہاں فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

پیپر اسٹون کے ریسرچ اسٹریٹجسٹ احمد عسیری نے کہا کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تاجر خطرے کے لیے زیادہ پریمیم کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں، جبکہ قیمتیں دوبارہ تین ہندسوں میں پہنچ سکتی ہیں۔

دریں اثنا، بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث اگست کے پہلے نصف میں روس کی مغربی بندرگاہوں سے خام تیل کی ترسیل کم ہوکر تقریباً 23 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو ابتدائی لوڈنگ پلان کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔

امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر 44 لاکھ بیرل بڑھ کر 42 کروڑ 88 لاکھ بیرل ہوگئے، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا۔ اس سے سپلائی میں کمی کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔

بی او کے کے کِسلر نے کہا کہ عالمی سطح پر ریفائنریوں نے بلند منافع کے باعث خام تیل کی خریداری تیز کردی ہے، جبکہ روس کے ریفائننگ سیکٹر پر یوکرین کے حملوں کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی محدود رہی ہے۔

ای آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران امریکی ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح ایک فیصد پوائنٹ بڑھ کر 97.2 فیصد ہوگئی۔