اسرائیل لبنان کے ساتھ ’’زیادہ سنجیدہ‘‘ مذاکرات کا خواہاں، ترجمان وزیراعظم
- اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کے ’سکیورٹی زون‘ قرار دیے گئے علاقے میں حزب اللہ کے حملے کے بعد اس نے یہ حملے کیے
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مہلک حملے کرنے کے بعد اسرائیل لبنان کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں نئے اور زیادہ جامع مذاکرات کا خواہاں ہے۔
نیتن یاہو کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے ’’مذاکرات کا آغاز کرنے اور انہیں مزید سنجیدہ بنانے کا ذریعہ بننے چاہییں، نہ کہ اس کے برعکس۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اور میرا خیال ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ امید ہے کہ اس سے مذاکرات آگے بڑھیں گے کیونکہ یہاں دشمن واضح ہے اور وہ حزب اللہ ہے۔‘‘
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملے اس وقت کیے جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے اندر اس علاقے میں حملہ کیا جسے اسرائیل سکیورٹی زون قرار دیتا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق حزب اللہ کے حملے میں تین اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہوئے تھے۔
اسپیل مین نے کہا کہ اسرائیل اب بھی امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے پر کاربند ہے جس کے تحت لبنان کی نو تشکیل شدہ سکیورٹی فورسز مرحلہ وار علاقے کا کنٹرول سنبھالیں گی اور حزب اللہ کو وہاں سے ہٹائیں گی۔ حزب اللہ ایران کی مذہبی حکومت کی حمایت یافتہ شیعہ تنظیم ہے جو طویل عرصے سے لبنان کی سیاست اور سلامتی میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔
اسپیل مین نے کہا، ’’ہم اس معاہدے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ لبنانی مسلح افواج آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں گی اور ہم مل کر حزب اللہ کو منظر سے ہٹا دیں گے۔‘‘
اسرائیل کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جس میں کمانڈر علی سمیر الحاج حسن مارا گیا۔
اسرائیل نے تسلیم کیا کہ حسن کے خاندان کے افراد بھی اس مقام پر موجود تھے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ حملے کا ہدف نہیں تھے۔ لبنانی حکام کے مطابق انصار گاؤں پر حملے میں متعدد بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک دوسرے حملے میں مزید 4 افراد مارے گئے۔