مارکٹس

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی

  • برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.45 ڈالر اضافے کے ساتھ 88.52 ڈالر فی بیرل پر رہی
شائع اپ ڈیٹ

ٹینکرز پر حملوں اور ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کی قیادت کے درمیان امن معاہدے میں پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ کو خام تیل کے سودے (فیوچرز) ایک ڈالر فی بیرل سے زائد بڑھ گئے۔

برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.45 ڈالر (1.67 فیصد) اضافے کے ساتھ 88.52 ڈالر فی بیرل پر رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.15 ڈالر (1.42 فیصد) بڑھ کر 82.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں ہفتہ وار بنیاد پر بالترتیب 6.0 فیصد اور 5.4 فیصد اضافے کا امکان تھا۔

لِپوو آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈریو لِپوو نے کہا کہ ٹینکرز پر نئے حملوں اور جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔

لِپوو کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں آمدورفت بدستور محدود رہی تو فیصلہ کن مرحلہ آسکتا ہے کیونکہ دنیا کی مجموعی تیل کی سپلائی کا 20 فیصد اسی آبی گزرگاہ سے گزر سکتا ہے۔

لِپوو نے کہا کہ ہخام تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل ہو سکتی ہیں لیکن ڈیزل کی قیمتیں 180 ڈالر فی بیرل اور گیسولین کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو صارفین کو متاثر کررہی ہے۔

جمعرات کو امریکا نے کہا تھا کہ جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کے جواب میں وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے اور تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا سکتا ہے۔