آبنائے ہرمز میں تیل پھیلنے پر ایران نے ہرجانے کا مطالبہ کردیا
- ایران نے جزیرہ قشم پر تیل پھیلنے کے واقعے پر ہرجانے کا مطالبہ کردیا، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق یہ تیل تین اگست کو عمانی پانیوں میں ایک ایرانی حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز سے رسنے کے بعد پھیلا۔
ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں تیل پھیلنے کے واقعے پر ماحولیاتی نقصان سے خبردار کرتے ہوئے ذمہ دار فریقوں سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تیل جنوبی جزیرے قشم تک پہنچ گیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تیل کے اخراج سے خلیج اور بحیرۂ عمان کے پانی آلودہ ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’’ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذریعہ ایک غیر ملکی بلک کیریئر ہے۔‘‘
تاہم عالمی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی امریکی ویب سائٹ ٹینکر ٹریکرز کے مطابق یہ تیل 3 اگست کو عمانی پانیوں میں ایران کے حملے کا نشانہ بننے والے بلک کیریئر مینویان پاینیر سے رسنے کا امکان ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق تیل بہہ کر آبنائے ہرمز کے راستے ایران کے ساحل تک پہنچا۔
بقائی نے ایکس پر کہا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران ایسے تیل کے اخراج سے ایران کے ساحلی علاقوں کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور ذمہ داروں سے اس کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے اقدامات کرے۔
ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے محکمہ تحفظِ ماحولیات کے سربراہ حبیب مسیحی نے بتایا کہ تیل کا پھیلاؤ جزیرہ قشم تک پہنچ گیا تھا، تاہم بدھ کی شام تک اسے تقریباً مکمل طور پر صاف کرلیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تیل سے ساحلی علاقے کا تقریباً 32 ہزار مربع میٹر رقبہ جبکہ 90 ہزار مربع میٹر پر پھیلا سمندری پانی متاثر ہوا۔
ایران کی ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم کی سربراہ شینا انصاری نے کہا کہ ’’قشم کے جنوبی ساحل پر تیل کی آلودگی اس وسیع پیمانے پر ہونے والی آلودگی کی محض ایک مثال ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو تباہ کردیا ہے۔‘‘
انصاری نے جمعرات کو ایکس پر سوال اٹھایا، ’’اس نقصان کا ہرجانہ کون ادا کرے گا؟ ہمارے خطے سے توانائی کی برآمدات استعمال کرنے والے ممالک یا وہ جارح قوتیں جنہوں نے اس خطے کو فوجی کارروائیوں کا اڈہ بنا رکھا ہے؟‘‘
28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے خلیج میں موجود امریکا کے اتحادی ممالک سے توانائی کی برآمدات لے جانے والے بحری جہازوں کی گزرگاہ بند کر رکھی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ملاحی فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ سمیت مختلف خدمات کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔
امریکا اور خطے کے بعض ممالک نے کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔
یہ تیل پھیلنے کا واقعہ حالیہ دنوں میں پڑوسی ملک عمان کے قریب پیش آنے والے ایک اور واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں ایک ٹینکر کے پھنس جانے کے نتیجے میں تیل سمندر میں پھیل گیا تھا۔
اے ایف پی کی ایک سابقہ تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ دھماکوں سے نقصان پہنچنے کے بعد یہ جہاز عمان کے جزیرہ القبلیہ کے قریب کئی ہفتوں سے پھنسا ہوا تھا۔