آٹو پالیسی حتمی شکل نہ دینے سے صنعت مشکلات کا شکار ہے، اویس لغاری
- آٹو انڈسٹری نے سی کے ڈی پرزہ جات کی ڈیوٹی میں مناسب کمی، پی ایچ ای ویز پر سیلز ٹیکس کم کرنے اور آٹو پالیسی کو فوری حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے جمعرات کو ایک بار پھر آٹو سیکٹر ڈیولپمنٹ پالیسی 2026-31 اور مقامی گاڑی ساز صنعت کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا، جہاں صنعت نے خاص طور پر چینی گاڑیوں سمیت مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یو) کی درآمد پر مالی مراعات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مقامی آٹو انڈسٹری کو درپیش مختلف چیلنجز پر غور کیا گیا، جن میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے باعث مقامی مینوفیکچررز پر دباؤ اور سیلز ٹیکس میں کمی سے متعلق نوٹیفکیشن میں تاخیر شامل ہے۔
آٹو انڈسٹری نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2026-31 کے تحت سی بی یو درآمدی ٹیرف میں مجوزہ کمی کو روکا جائے، کیونکہ اس سے پاکستان کی گاڑی سازی کی صنعت کو ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتی زوال) کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔
سردار اویس لغاری کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آٹو اور آٹو پارٹس پالیسی کو حتمی شکل نہ دیے جانے کے باعث آٹو سیکٹر مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت نے پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا، جبکہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی گئی، جس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچا۔
اس وقت سی کے ڈی (مکمل طور پر ناک آؤٹ) پرزہ جات اور کٹس کی درآمد کے لیے کوئی نیا ٹیرف اعلان نہیں کیا گیا اور یہ درآمدات اب بھی ایس آر او 655(I)/2006 کے تحت جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2026-27 کے بجٹ میں سی بی یو گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کم ہونے کے بعد سی کے ڈی کٹس پر موجودہ ڈیوٹی مکمل تیار شدہ گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے، جس سے ایک بڑی پالیسی بے ضابطگی پیدا ہوگئی ہے۔
ان مسائل کے باعث بعض گاڑی ساز کمپنیوں کی پروڈکشن لائنز متاثر ہونے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آٹو انڈسٹری نے سی کے ڈی پرزہ جات کی ڈیوٹی میں مناسب کمی، پی ایچ ای ویز پر سیلز ٹیکس کم کرنے اور آٹو پالیسی کو فوری حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب صنعت نے 10 ملین روپے سے زائد مالیت کی لگژری گاڑیوں پر ممکنہ ٹیکس ریلیف پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی مشکلات اور سخت معاشی اصلاحات سے گزر رہا ہے۔
چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ فنانس بل 2026 میں ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد کیا گیا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ 18 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو ٹیکس نظام کو وسیع کرنے اور مالی نظم و ضبط سے متعلق آئی ایم ایف کی ترجیحات کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
آٹو انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ اگر مجوزہ ٹیرف کمی سے شعبے کو استثنیٰ نہ دیا گیا تو گاڑیوں کے پلانٹس مستقل بند ہونے، تقریباً 1,324 آٹو پارٹس مینوفیکچررز متاثر ہونے اور 5 ارب ڈالر سے زائد صنعتی سرمایہ کاری کے نقصان کا خدشہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026