پاکستان نے آزاد کشمیر انتخابات پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیانات مسترد کردیے
- انتخابات آزاد کشمیر سے متعلق آئینی اور قانونی فریم ورک کے مطابق پرامن، شفاف اور منظم انداز میں ہورہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری انتخابات کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیانات کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ حیران کن نہیں کہ بھارت نے پانچ اگست کی اپنی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائی کے سات سال مکمل ہونے سے ایک روز قبل ایسے بیانات جاری کیے ہیں جن کے ذریعے وہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور خود بھارت کے بین الاقوامی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات آزاد کشمیر سے متعلق آئینی اور قانونی فریم ورک کے مطابق پرامن، شفاف اور منظم انداز میں ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا نہ تو قانونی جواز حاصل ہے اور نہ ہی اخلاقی اختیار جبکہ وہ خود مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی سیاسی حقوق اور جمہوری آزادیوں سے مسلسل محروم رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی بیانات کا مقصد واضح طور پر بین الاقوامی توجہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکامی سے ہٹانا ہے۔
طاہر اندرابی نے ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات واپس لے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔
جب اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے تو ترجمان نے اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان پاکستان کے موقف کی توثیق اور ریاست جموں و کشمیر پر بین الاقوامی قانونی موقف کا اعادہ ہے۔
اپنے ابتدائی بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران بالخصوص آبنائے ہرمز کے تناؤ کو حل کرنے کے لیے اپنے برادر ممالک کے ساتھ مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عمان کی قیمتی خدمات اور کشیدگی میں کمی اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے اس کی مستقل کوششوں کا اعتراف اور دل سے سراہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتی رابطوں کو فعال طور پر جاری رکھے گا اور اس تنازع کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرے گا۔
آبنائے ہرمز معاہدہ ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کا باعث بنے گا
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز پر معاہدے کے نتیجے میں امریکہ اور ایران ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں گے جن کی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں اسلام آباد نے ثالثی کی تھی۔
ترجمان طاہر اندرا بی نے صحافیوں کو بتایا ہمیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں معاہدہ مسلسل بات چیت، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔
دریں اثنا جنوبی ایشیائی ملک کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اندرا بی نے کہا اگرچہ یہ دورہ خلیج میں شدید کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے، لیکن اس کی اہمیت فوری بحران اور قلیل مدتی غور و فکر سے بالاتر ہوگی۔ ان کی حکومت امریکہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کر رہی ہے جس میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔