دنیا

امریکی تجارتی پابندیوں کے بعد چین کا جوابی اقدامات کا اعلان

  • یہ اعلان امریکہ کی جانب سے چند روز قبل چین اور 59 دیگر ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

چین نے بدھ کو امریکہ کو ڈرونز کی برآمدات پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے خدشات کے تحت عائد تجارتی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکہ نے چین سمیت 59 دیگر ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی اقدامات کی فہرست مزید طویل ہو گئی۔

چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اقدامات ”چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”چین اس کے جواب میں صرف ضروری جوابی اقدامات ہی کر سکتا ہے، جن میں امریکہ کو ڈرونز، ان کے اہم پرزہ جات اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر مزید سخت پابندیاں شامل ہیں۔“

وزارت کے مطابق بیجنگ نے چینی سرٹیفکیشن اداروں کی جانب سے فیکٹریوں کے فالو اپ معائنے بھی معطل کر دیے ہیں، متعدد امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جبکہ دفتری پرنٹرز اور فوٹو کاپی مشینوں کی درآمدات کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

چین نے چھ امریکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں بایو ٹیکنالوجی کمپنی اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور ارضیاتی تحقیقاتی ادارہ اسٹریٹم ریزروائر شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت چین کے اندر کسی بھی ادارے یا فرد کو ان کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین، تعاون یا دیگر سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔

وزارتِ تجارت نے کہا کہ ان چھ کمپنیوں نے سنکیانگ سے متعلق امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں میں معاونت اور حمایت کی، اور ان کے اقدامات کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔

اقوام متحدہ سنکیانگ میں زیادہ تر مسلمان ایغور اقلیت کے خلاف ممکنہ انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی کر چکی ہے، تاہم چین ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار ہے لی فنگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران حالیہ امریکی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے رپورٹ کی۔

گزشتہ ہفتے چین نے امریکہ پر چینی کمپنیوں کو ”دبانے“ کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا تھا، جب واشنگٹن نے نئے ٹیرف سے الگ ایک فیصلے میں بیرونِ ملک تیار کیے گئے انسانی شکل (ہیومنوئیڈ) اور چار ٹانگوں والے (کواڈروپیڈ) روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔

چین اور امریکہ گزشتہ سال کے بیشتر عرصے تک بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ میں الجھے رہے، تاہم گزشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر امریکہ کے حالیہ ٹیرف نے اس جنگ بندی کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ بیجنگ نے واشنگٹن کو تجارتی جنگ سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔