ٹیکنالوجی

پی ٹی اے نے ٹیلی کام آلات کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات لازمی قرار دے دیے

  • نئے ضوابط کا اطلاق ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے لائسنس یافتگان، مقامی سازندوں اور درآمد کنندگان پر ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے ٹیلی کمیونی کیشن ایکوپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت پاکستان میں تیار، درآمد، فروخت یا استعمال ہونے والے تمام ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تکنیکی، حفاظتی اور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نیٹ ورک سیکیورٹی، صارفین کے تحفظ اور ٹیلی کام خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن نے ایس آر او 1110(I)/2026 کے ذریعے ان ضوابط کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ ضوابط پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری سے مرتب کیے ہیں۔

سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی یہ ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ضوابط کا اطلاق ٹیلی کام آلات کے لائسنس یافتگان، مقامی سازندوں اور درآمد کنندگان پر ہوگا۔ ان کے تحت پاکستان میں کسی بھی ٹیلی کام آلات کی تنصیب یا استعمال سے قبل اس کے لیے یکساں تکنیکی معیارات اور آزمائشی طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے تمام ٹیلی کام آلات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کارکردگی، حفاظتی اور باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کے تقاضوں پر پورا اتریں۔

ضوابط میں متعدد اہم تکنیکی اصطلاحات کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی (ای ایم سی)، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)، فکسڈ وائرلیس ایکسس، سیٹلائٹ کمیونی کیشن ڈیوائسز اور ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔

مزید برآں، نئے ضابطہ جاتی نظام کے تحت پی ٹی اے کے مجاز افسران کو ان معیارات پر عمل درآمد کی نگرانی اور ان کے نفاذ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

نئے فریم ورک کے تحت پی ٹی اے نے دنیا کے معروف معیاری اداروں کے تسلیم شدہ معیار اپنائے ہیں، جن میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین ٹیلی کمیونی کیشن اسٹینڈرڈائزیشن سیکٹر (آئی ٹی یو-ٹی)، یورپی یونین ریڈیو ایکوپمنٹ ڈائریکٹو (آر ای ڈی)، یورپی اسٹینڈرڈز (ای این)، فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن (ایف سی سی)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار اسٹینڈرڈائزیشن (آئی ایس او)، یورپی ٹیلی کمیونی کیشنز اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوٹ (ای ٹی ایس آئی )، انٹرنیشنل الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن (آئی ای سی)، سی ای این ای ایل ای سی، سی آئی ایس پی آر اور او ایچ ایس اے ایس شامل ہیں۔

ضوابط کے مطابق لازمی تکنیکی تقاضوں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی، صحت و حفاظت، آپٹیکل اور لیزر سیفٹی، ریڈیو فریکوئنسی کمیونی کیشن، موبائل کمیونی کیشن، سیٹلائٹ کمیونی کیشن اور زمینی ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔ ان تقاضوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی کام آلات نہ تو نقصان دہ مداخلت کا باعث بنیں، نہ ہی حفاظتی خطرات پیدا کریں، اور ساتھ ہی پاکستان کے ٹیلی کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر سے مکمل مطابقت بھی برقرار رکھیں۔

پی ٹی اے نے یہ اختیار بھی اپنے پاس محفوظ رکھا ہے کہ وہ متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد وقتاً فوقتاً ان معیارات کا جائزہ لے اور تکنیکی ترقی اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ان میں ضروری تبدیلیاں کرے۔