مارکٹس

امریکا ایران جنگ سے عالمی مارکیٹ کو 2.6 ارب بیرل تیل کا نقصان ہوا، آرامکو

  • اگر آج آبنائے ہرمز کھول بھی دی جائے تو ختم ہونے والے عالمی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں تقریباً 18 ماہ لگ سکتے ہیں، امین ناصر
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد دنیا کو اب تک 2.6 ارب بیرل سے زائد خام تیل کی سپلائی کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ عالمی ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

امین ناصر کے مطابق اگر آج آبنائے ہرمز کھول بھی دی جائے تو ختم ہونے والے عالمی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں تقریباً 18 ماہ لگ سکتے ہیں، بشرطیکہ روزانہ اوسطاً 2.1 ملین بیرل تیل ذخیرہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ اہم بحری راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ادارے آرامکو نے رواں سال اپریل تا جون کی سہ ماہی میں 32.69 ارب ڈالر کا خالص منافع رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے مطابق خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور کیمیکل مصنوعات کی بلند قیمتوں کے ساتھ ساتھ متبادل راستوں سے ترسیل نے منافع میں اضافہ کیا۔

امین ناصر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی میں غیر معمولی رکاوٹ کے باوجود آرامکو نے اپنے متنوع اثاثوں اور کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی کی بدولت کاروباری سرگرمیاں جاری رکھیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی آئل انڈسٹری کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر ہونے اور تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حوثیوں کے حملوں سے سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور بحیرہ احمر پر موجود برآمدی تنصیبات کو خطرات لاحق ہیں۔ آرامکو سربراہ نے کہا کہ حالیہ حملوں سے کچھ پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تاہم کمپنی فوری طور پر آپریشن بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امین ناصر کے مطابق سعودی عرب کے تیل ذخائر، برآمدی ٹرمینلز اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن عالمی سپلائی بحران کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی صنعت مزید بڑے بحران کا سامنا کرنے کے لیے محدود گنجائش رکھتی ہے، کیونکہ دنیا بھر کی ریفائنریز تقریباً مکمل صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ کسی بھی بڑی یا طویل بندش سے عالمی توانائی کی فراہمی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

آرامکو کے مطابق رواں سال دوسری سہ ماہی میں کمپنی کی مجموعی ہائیڈروکاربن پیداوار 9.5 ملین بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 12.8 ملین بیرل یومیہ تھی۔ امین ناصر نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جاری خطرات عالمی معیشت پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔