دنیا

ٹرمپ کا ایران کو معاہدہ کرنے یا ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم

  • امریکی صدر نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک برہمی بھرے پیغام میں کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ”معاہدہ یا مکمل ہتھیار ڈالنے“ کی صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔

ایران کو ”دوغلا“ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ”کھلے عام اور فخر سے“ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں کر رہا، حالانکہ ”ایران مانے یا نہ مانے، ہم درحقیقت اس مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں، جو اس نے کئی دہائیوں سے پیدا کر رکھا ہے۔“

ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ اس کے کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران پر بڑے فضائی حملوں کا منصوبہ مؤخر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خطے کے کئی ممالک اور خود تہران نے مذاکرات کے لیے مہلت مانگی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ اس وقت اس کی صرف عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جس میں عالمی توانائی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔

ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ایران نے ہی مذاکرات کی درخواست کی تھی، بلکہ ”بعض لوگ تو کہیں گے کہ اس نے گڑگڑا کر مطالبہ کیا“، لیکن اب وہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق ”روایتی بے بنیاد دعوے“ کر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی مکمل طور پر امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے اور ”ہماری بحری ناکہ بندی، یا جیسا کہ بعض لوگ اسے ’امریکا کی فولادی دیوار‘ کہتے ہیں، برقرار ہے۔ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا یا مکمل ہتھیار نہیں ڈالے جاتے، ہماری مرضی کے بغیر ایران تک کچھ نہیں پہنچ سکتا۔“

ٹرمپ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔

اس جنگ کے ابتدائی اہداف میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا اور حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کی حمایت شامل تھی۔

تاہم پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایران اب بھی خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔

امریکی دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں نے عالمی توانائی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے تہران کو جاری کشیدگی میں ایک مضبوط سفارتی اور تزویراتی برتری حاصل ہو گئی ہے۔