اسٹیل میلٹرز سے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ
- گزشتہ 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 70 فیصد سے زائد درآمدی اسکریپ استعمال کرنے والے مینوفیکچررز سے بجلی کے فی یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس وصول ہوگا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور اسٹیل میلٹنگ و ری رولنگ ملز کی کمپوزٹ یونٹس کے لیے سیلز ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ کار جاری کر دیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی 2026 سے سیلز ٹیکس بجلی کے فی یونٹ استعمال کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 1245(1)/2026 کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 6 کی ذیلی شق (2) کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسٹیل صنعت کے کاروباری یونٹس کی درجہ بندی، ٹیکس کی شرح اور وصولی کے طریقہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت بجلی سے چلنے والے اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس، بشمول شوگر ملز یا دیگر اداروں کی جانب سے بیگاس یا دیگر ذرائع سے خود پیدا کردہ بجلی استعمال کرنے والے یونٹس اور کیپٹو پاور پروڈیوسرز بھی شامل ہوں گے۔
ری میلٹیبل آئرن اور اسٹیل اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس، جو پی سی ٹی ہیڈنگ 7204.3000، 7204.4100 اور 7204.4990 کے تحت آتے ہیں، انہیں اسٹیل بلٹس، انگوٹس اور مائلڈ اسٹیل کی تیاری پر بجلی کے استعمال کی بنیاد پر اضافی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
مقامی اسکریپ استعمال کرنے والے مینوفیکچررز سے بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
گزشتہ 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 70 فیصد سے زائد درآمدی اسکریپ استعمال کرنے والے مینوفیکچررز سے بجلی کے فی یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس وصول ہوگا۔
اسی طرح یکم جون 2026 سے انٹرپرائز فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) لائسنس یافتہ اداروں سے فراہم کردہ اسکریپ کا 70 فیصد سے زائد استعمال کرنے والے اسٹیل مینوفیکچررز بھی 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ کیپٹو پاور یا خود پیدا کردہ بجلی استعمال کرنے والے اسٹیل مینوفیکچررز کے لیے یہ شرح 35 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق وہ اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس جو بورڈ کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے ریئل ٹائم سیلز رپورٹنگ کے لیے منسلک ہوں گے اور گزشتہ 12 ماہ میں استعمال ہونے والے خام مال میں درآمدی ری میلٹیبل آئرن اور اسٹیل اسکریپ کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہوگا، ان کے لیے فی یونٹ سیلز ٹیکس کی شرح 5 روپے ہوگی۔
اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس کو اس نوٹیفکیشن کے تحت ادا کردہ سیلز ٹیکس کو آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے مقابلے میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔
ایف بی آر نے مزید کہا کہ وہ اسٹیل مینوفیکچررز جو ایک بجلی کے میٹر پر ماہانہ 5 لاکھ یا اس سے زائد یونٹس بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں اسٹیل میلٹرز یا کمپوزٹ یونٹس کے طور پر شمار کیا جائے گا اور انہیں اپنی پیداوار اور سپلائی کی تفصیلات اسی کے مطابق ظاہر کرنا ہوں گی۔
جبکہ ماہانہ 5 لاکھ یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے مینوفیکچررز اسٹیل ری رولرز کے زمرے میں آئیں گے۔
ایف بی آر کے مطابق اگر اسٹیل میلٹرز یا کمپوزٹ یونٹس مقررہ تاریخ تک سیلز ٹیکس ادا نہ کریں تو متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) بجلی کا کنکشن منقطع کر سکیں گی۔ ڈسکوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 سے تمام میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ مینوفیکچررز پر مقررہ فی یونٹ سیلز ٹیکس کا اطلاق یقینی بنائیں۔
ایف بی آر نے کہا ہے کہ اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس کے نام اور تفصیلات ہر تین ماہ بعد اپ ڈیٹ کرنے کے لیے جائزہ لیا جائے گا، جبکہ اسٹیل صنعت کو سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026