حوثی بحیرہ احمر سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، یمن کا دعویٰ
- یہ تنگ سمندری شاہراہ عالمی منڈی تک سعودی خام تیل کی بڑی مقدار پہنچانے کے لیے ایک اہم آبی راستہ رہی ہے
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک وزیر نے حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی ہدایت پر بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر فیس/ٹیکس عائد کرنے کا نظام قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جنگ کے باعث توانائی کی برآمدات بڑے پیمانے پر بند ہونے کے بعد یہ تنگ سمندری شاہراہ عالمی منڈی تک سعودی خام تیل کی بڑی مقدار پہنچانے کے لیے ایک انتہائی اہم آبی راستہ رہی ہے۔
وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے اس قدم کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا جس کا مقصد دنیا کے سب سے اہم ترین اسٹریٹجک سمندری راستوں میں سے ایک کو ملیشیا کی فوجی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مستقل مالی امداد کے ذریعے میں تبدیل کرنا ہے۔الاریانی نے بتایا کہ یہ تخمینہ حال ہی میں حاصل ہونے والی مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اس کوشش کے نظم و نسق میں مدد کر رہی ہے۔
وزیر نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں مزید کہا کہ انٹیلی جنس معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے ماہرین اور مشیر اس منصوبے کے تکنیکی اور انتظامی ڈھانچے کو ڈیزائن کرنے میں براہِ راست ملوث ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں شپنگ کمپنیوں اور تجارتی جہازوں سے ادائیگی اکٹھی کرنے کے لیے ایک مخصوص ادارے کا قیام بھی شامل ہے۔خلیجی ممالک میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ حوثی باب المندب میں رسائی سے پیسے کمانے کے لیے ایران کے آبنائے ہرمز والے طریقے کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک ایسا قدم ہے جو عالمی توانائی کی منڈیوں کو مزید ابتری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے، حوثیوں نے سعودی عرب کی سمندری ناکابندی کا اعلان کیا تھا اور تب سے انہوں نے سعودی آئل ٹینکرز اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کے دعوے کیے ہیں۔اس ناکابندی نے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل برآمد کرنے کی سعودی عرب کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکابندی کے بعد مملکت کا واحد دوسرا سمندری راستہ بھی بند کر دیا ہے۔