لوک سبھا میں امتحانی پیپرز لیک کرنے پر سزا میں اضافے کا بل منظور
- نئے قانون کے تحت پیپر لیک میں ملوث افراد کی زیادہ سے زیادہ قید کی سزا دگنی کرکے 10 سال کر دی جائے گی
بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) نے امتحانی پیپرز لیک کرنے پر سزاؤں کو مزید سخت بنانے کا بل منظور کر لیا۔ یہ پیش رفت نوجوانوں کے احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔
اس قانون سازی کے تحت پیپر لیک میں ملوث افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ قید کی سزا کو دوگنا کر کے 10 سال کر دیا گیا ہے، جبکہ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ رقم بڑھا کر 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 83 کروڑ بھارتی روپے) سے زائد کر دی گئی ہے۔
بھارتی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق قانون سازوں نے گھنٹوں جاری رہنے والے ہنگامہ خیز مباحثے کے بعد شفاہی ووٹنگ کے ذریعے اس بل کی منظوری دی۔اب یہ بل ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں وزیراعظم نریندر مودی کے حکمران اتحاد کو اکثریت حاصل ہے۔ مودی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ان سخت سزاؤں کی منظوری دی تھی۔یہ منظوری امتحانی پیپرز کے افشا اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ہفتوں سے جاری بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں کو ملک بھر کے طلبہ کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، جس نے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وہ تعلیم کے نظام سے متعلق بھارت کے نوجوانوں کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتے ہیں۔انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض غصہ یا نفرت نہیں تھی، بلکہ اس ملک کے نوجوانوں اور آئندہ نسل کے احساسات کا شدید اظہار تھا اور مجھے لگتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود نوجوانوں کو اچھی ملازمتوں کی شدید کمی اور زبردست مقابلے کا سامنا ہے۔کامیابی حاصل کرنے کے اس شدید دباؤ نے کوچنگ سینٹرز کا ایک بڑا نیٹ ورک کھڑا کر دیا ہے اور مجرمانہ گروہوں کو لیک شدہ سوالنامے بیچ کر منافع کمانے کا موقع دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے بار بار کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود قومی اور ریاستی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک ہونے کا مسئلہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔نئی دہلی میں 20 جولائی کو اس وقت پیپر لیکس کے خلاف مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے جب جنتر منتر کے مقام سے مظاہرین کے ایک بڑے ہجوم نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے اور لاٹھی چارج کیا، جس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔