رائے

ادائیگیوں کا توازن

  • ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کے باوجود عالمی کشیدگی نے آئندہ مالی سال کے امکانات دھندلا دیے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان کے بیرونی توازنِ ادائیگی کے سالانہ اور سہ ماہی دونوں طرح کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔

خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں توازنِ ادائیگی کا سرپلس (بچت/منافع) حاصل کیا ہے۔ تاہم یہ 1.8 ارب امریکی ڈالر کے نسبتاً کم حجم پر مشتمل تھا۔ یہ مالی سال 25-2024 میں حاصل ہونے والے 3.7 ارب ڈالر کے سرپلس کے نصف سے بھی کم تھا۔توازنِ ادائیگی کے دو اہم اجزا (حصے) ہوتے ہیں: کرنٹ اکاؤنٹ اور فنانشل اکاؤنٹ۔ کرنٹ اکاؤنٹ، جو مالی سال 25-2024 میں 1.8 ارب ڈالر کے سرپلس میں تھا، مالی سال 26-2025 میں معمولی حد تک منفی (خسارے میں) ہو گیا۔ جب کہ فنانشل اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر کے سرپلس کے ساتھ بند ہوا،اب مالی سال 25-2024 کے حجم سے صرف معمولی سا کم ہے۔توازنِ ادائیگی کے سہ ماہی اعداد و شمار فروری 2026 کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

شاید توقعات کے برعکس مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم رہا۔ یہ 905 ملین ڈالر کے سرپلس کے قریب پہنچ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ سرپلس 365 ملین ڈالر تھا۔اب ہم ادائیگی کے توازنِ کے دونوں کھاتوں کے اندر مختلف لین دین (تجارتی و مالی معاملات) کا جائزہ لیتے ہیں۔ اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً 25 فیصد تک نمایاں طور پراضافے کے بعد مالی سال 25-2024 کے 26.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 33.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔دونوں محاذوں پر منفی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ برآمدات میں تقریباً 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ اشیا کی در آمدات میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے منفی اثرات یہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوتھی سہ ماہی میں اشیا کے تجارتی خسارے میں 36 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی در آمدات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔خوش قسمتی سے اور شاید حیران کن طور پر اس نقصان کو چوتھی سہ ماہی میں ورکرز ریمیٹنسز میں 7 فیصد اور پورے سال کے دوران 8 فیصد سے زائد کے اضافے نے کسی حد تک متوازن کر دیا۔ تاہم یہ اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا یہ واقعی ایک حقیقی اضافہ تھا یا ہم جنگ کے آغاز کے بعد مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص دبئی سے واپس لوٹنے والے پاکستانی کارکنوں کی جانب سے یکمشت بھیجی گئی رقم کا اثر دیکھ رہے ہیں۔

خدمات کی تجارتی کارکردگی اور بنیادی آمدنی کے خالص توازن میں صرف معمولی یا برائے نام تبدیلیاں آئی ہیں۔ پرائمری انکم کے دو اجزا میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کا اپنے منافع کو واپس اپنے ملک منتقل کرنا شامل ہیں۔ بعد الذکر (یعنی منافع کی منتقلی) میں شاید پاکستان سے متعدد بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے نکل جانے کے بعد نمایاں کمی آئی ہے۔پاکستان سے غیر ملکی کمپنیوں کے اس انخلا کے ساتھ ہی ، جو پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق منفی تاثر کو ظاہر کرتا ہے، ہمیں پاکستان میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی ایک بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ مالی سال 25-2024 کے 2.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں 1.9 ارب ڈالر پر آ گئی ہے، جو 24 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

جنرل گورنمنٹ اکاؤنٹ نے 2.9 ارب ڈالر کے خالص بہاؤ (نیٹ ان فلو) میں اضافے کے ساتھ ایک مثبت رجحان دکھایا ہے۔ اس میں پیش رفت یہ ہے کہ مجموعی درآمدی بہاؤ (گراس فلو) میں 22 فیصد اضافے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد کا خالص بہاؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کھاتے میں ٹائم ڈیپازٹس (مدتی امانتوں) کی تبدیلیاں شامل ہیں یا نہیں۔جیسا کہ پہلے بھی نشاندہی کی گئی کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مجموعی توازنِ ادائیگی کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام سے حاصل ہونے والے خالص بہاؤ میں اضافے کے باعث ایک نمایاں سرپلس برقرار رہا۔مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 3.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 25-2024 میں یہ اضافہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔مالی سال 23-2022 کے بعد سے توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے میں حاصل ہونے والی کامیابی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جب پاکستان خطرناک حد تک ڈیفالٹ (دیوالیہ) ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت سے توازنِ ادائیگی کا نتیجہ مثبت رہا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مالی سال 24-2023 میں 5.5 ارب ڈالر، مالی سال 25-2024 میں 5.1 ارب ڈالر اور مالی سال 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔نتیجتاً مالی سال 26-2025 کے اختتام پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی در آمدات کے لیے کافی (امپورٹ کور) ہیں اور انہیں ایک ’محفوظ‘ سطح قرار دیا جا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے جس نے پاکستان کو پہلے ایک سالہ اسٹینڈ بائی فیسلٹی اور پھر تین سال سے زائد کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) کے ذریعے مالی بحران سے نکالا۔ اگر پاکستان موجودہ پروگرام میں بہتر کارکردگی جاری رکھتا ہے تو ان دو سہولیات کی مد میں آئی ایم ایف سے قرض کا مجموعی بہاؤ مالی سال 27-2026 کے اختتام تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے مالی سال 27-2026 کے لیے توازنِ ادائیگی کے پیش کردہ تخمینوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ تخمینے 14 مئی 2026 کو پاکستان کی جانب سے تیسرے پروگرام کے کامیاب جائزے کی تکمیل کے بعد تیار کیے گئے تھے۔ لہٰذا یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے دوران مرتب کیے گئے ہیں۔

مالی سال 27-2026 کے لیے آئی ایم ایف کے توازنِ ادائیگی کے تخمینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا شامل ہے۔ تاہم مثبت توقع یہ ہے کہ اشیا کی در آمدات میں ہونے والا اضافہ، برآمدات میں بڑے اضافے کے باعث بڑی حد تک برابر ہو جائے گا۔آئی ایم ایف کی ایک شاید حیران کن توقع یہ ہے کہ مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹنسز میں کمی آئے گی۔ یہ شاید کچھ پاکستانی کارکنوں کے، بالخصوص دبئی سے، انخلا کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم فنانشل اکاؤنٹ کی طرف آئیں تو یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس کھاتے میں آمد 3 ارب ڈالر سے زائد تک نمایاں طور پر بڑھے گی۔ یہ توقع غیر ملکی نجی سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع سے رقم کی آمد میں نمایاں اضافے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اس کے اپنے قرض کی رقم کی منتقلی کو ملا کر پاکستان کے ذخائر مالی سال 27-2026 میں مزید 3.4 ارب ڈالر بڑھ جائیں گے۔ اس سے ان ذخائر کی سطح تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو کہ تین ماہ کے در آمدی احاطے (امپورٹ کور) سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے بعد پاکستان 27-2026 کے بعد آئی ایم ایف کی چھتری یا سہارے کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔تاہم آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئیاں اب حد سے زیادہ پرامید نظر آتی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں حالیہ شدت آنے کے بعد اب اس بات کا خطرہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ذریعے رسائی بھی رک سکتی ہے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔نتیجتاً پاکستان کے حکام کو مالی سال 27-2026 کے امکانات کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ تیل کے در آمدی بل میں بے تحاشا اضافے، بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی اور عالمگیر کساد بازاری (عالمی معاشی مندی) کے باعث دنیا بھر میں برآمدات میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔ یہ منفی پیش رفت غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026