اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 5200 پوائنٹس بڑھ گیا
- دوپہر 12 بجکر 4 منٹ پر 100 انڈیکس 176,232.55 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل کئی روز سے جاری فروخت کے دباؤ کے بعد پیر کو خریداری کا رجحان ایک بار پھر واپس آگیا جس کی بدولت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 5200 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر 12 بجکر 4 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,211.35 پوائنٹس یا 3.05 فیصد اضافے سے 176,232.55 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل تھیں۔ او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پول، ماری، پی ایس او، حبکو، اے آر ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی اور میبل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 سے 5 فیصد کمی آئی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اور دیگر مارکیٹ کے شرکاء فعال طور پر خریداری کررہے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آج کے مانیٹری پالیسی کے اعلان میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آخر میں جاری کارپوریٹ مالی نتائج کا سیزن بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مارکیٹ کے مثبت رجحان کو تقویت دے رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) آج (پیر کو) آئندہ 50 روز کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا جبکہ مارکیٹ کے بیشتر شرکا کو توقع ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی ریٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گی۔
گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) دباؤ کا شکار رہی۔ بالخصوص حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کے اعلان نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا جبکہ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً دو ماہ میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس 2.7 فیصد یا 4,781.60 پوائنٹس کی کمی سے 171,021.20 پوائنٹس پر بند ہوا۔
خلیج میں لڑائی میں وقفے کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی آنے پر پیر کو عالمی شیئر مارکیٹس نے محتاط مثبت ردِعمل دیا۔ تیل سستا ہونے سے افراطِ زر کے خدشات میں کمی آئی اور بانڈز کی طلب میں اضافہ ہوا جب کہ سرمایہ کاروں کی نظریں مرکزی بینکوں کے اہم پالیسی اجلاسوں اور کمپنیوں کے مالی نتائج پر مرکوز رہیں جن کا سلسلہ اس ہفتے جاری رہے گا۔
ایران نے اتوار کو کہا کہ اگر امریکہ بھی حملے بند رکھے تو وہ بھی اپنی کارروائیاں روک دے گا جب کہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کو اپنے گولہ بارود کے ذخائر میں تیزی سے کمی پر تشویش لاحق ہے۔
تاہم ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے جاری رکھے جس سے عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ایک اور بحری گزرگاہ کو خطرات لاحق ہوگئے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں عارضی کمی آنے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 5.2 فیصد گر کر 91.73 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 5.4 فیصد کمی کے بعد 84.45 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی سے افراطِ زر کے خدشات میں کچھ کمی آئی جس کے بعد مارکیٹوں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کا تخمینہ بھی قدرے کم کردیا۔
تیل کی قیمتوں اور بانڈز کی ییلڈ میں کمی سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو سہارا ملا جس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.7 فیصد جبکہ نیسڈیک فیوچرز میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یورپ میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.4 فیصد بڑھے ڈیکس فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز تقریباً بغیر کسی تبدیلی کے رہے۔
جاپان کا نکئی انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا جبکہ جنوبی کوریا کا چپ ساز کمپنیوں پر مشتمل اہم انڈیکس 1.1 فیصد گر گیا۔ دوسری جانب جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس تقریباً مستحکم رہا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے