نیپرا نے حیسکو کی نظرثانی درخواست مسترد کردی، 5 کروڑ روپے جرمانہ برقرار
- نیپرا نے قرار دیا کہ حیسکو اب بھی نیپرا ایکٹ، پرفارمنس اسٹینڈرڈز (ڈسٹری بیوشن) رولز 2005 اور اپنے ڈسٹری بیوشن لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہی ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے کمپنی پر عائد 5 کروڑ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا ہے۔ یہ جرمانہ لوڈشیڈنگ سے متعلق قوانین کی مسلسل خلاف ورزی، خصوصاً اگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل نقصانات کی بنیاد پر بجلی بند کرنے کے طریقہ کار پر عائد کیا گیا تھا۔
22 جولائی 2026 کو جاری تفصیلی فیصلے میں نیپرا نے کہا کہ حیسکو اپنی موشن فار لیو فار ریویو (ایم ایل آر) میں نہ تو کوئی نیا ثبوت پیش کر سکی اور نہ ہی کسی قانونی غلطی کی نشاندہی کر سکی، جس کی بنیاد پر سابقہ فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی۔
نیپرا نے قرار دیا کہ حیسکو اب بھی نیپرا ایکٹ، پرفارمنس اسٹینڈرڈز (ڈسٹری بیوشن) رولز 2005 اور اپنے ڈسٹری بیوشن لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہی ہے، کیونکہ وہ اب بھی اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کر رہی ہے، جسے نیپرا نے کبھی بھی قانونی حیثیت نہیں دی۔
یہ معاملہ حیسکو کے علاقوں میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ سے متعلق صارفین کی مسلسل شکایات کے بعد سامنے آیا۔ نیپرا نے کہا کہ مقررہ لوڈ مینجمنٹ طریقہ کار پر عمل کرنے کے بجائے حیسکو نے فیڈرز کے نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی، جس سے بل ادا کرنے والے صارفین بھی متاثر ہوئے۔
اس سے قبل بھی نیپرا حیسکو پر متعدد جرمانے عائد کر چکا ہے۔ اپریل 2024 میں کارکردگی کے معیار کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا، جبکہ ستمبر 2025 میں عدم تعمیل جاری رکھنے پر ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
سماعت کے دوران حیسکو نے مؤقف اختیار کیا کہ لوڈشیڈنگ کی یہ پالیسی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی ہدایات کے تحت 2017 سے نافذ ہے، جس میں فیڈرز کو نقصانات کی بنیاد پر مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا۔ تاہم نیپرا نے قرار دیا کہ یہ مؤقف خلاف ورزی کا اعتراف ہے، نہ کہ اس کا جواز۔
نیپرا نے حیسکو کی آپریشنل کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن اور مینٹیننس کے لیے خاطر خواہ فنڈز ملنے کے باوجود کمپنی نقصانات کم کرنے میں ناکام رہی، جبکہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو جیسی دیگر تقسیم کار کمپنیوں نے نقصانات میں کمی لا کر اس طرز کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی۔
ریگولیٹر کے مطابق تجزیے سے معلوم ہوا کہ حیسکو کے علاقوں میں حقیقی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ شیڈول سے کئی گھنٹے زیادہ رہا، جو انتظامی کمزوری اور ناقص گورننس کی عکاسی کرتا ہے۔
نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حیسکو فوری طور پر اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ بند کرے اور بجلی کی فراہمی کو قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق منصفانہ اور بلاامتیاز بنائے۔
اتھارٹی نے حیسکو کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر 5 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرے، بصورت دیگر قانون کے مطابق ریکوری کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026