نئی دہلی میں وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج، دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا
- احتجاجی مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان بدھ کی شب مختصر جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق وسطی نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر 10 ہزار سے زائد افراد جمع ہوئے، جہاں کاکروچ تحریک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ مئی میں تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔
احتجاجی مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں شدید احتجاج کیا۔
رات گئے بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور پلاسٹک کی بوتلیں پھینکیں، جس سے چند اہلکار زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس کو آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر دہلی میٹرو انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مرکزی نئی دہلی اور اطراف کے 16 میٹرو اسٹیشن تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات اور امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے تک تحریک جاری رہے گی۔