مارکٹس

خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • برینٹ خام تیل کی قیمت 4.2 فیصد اضافے کے بعد 94.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 4.2 فیصد اضافے کے بعد 94.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 95.24 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کر گئی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.33 فیصد اضافے کے ساتھ 87.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس نے 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ریکارڈ کی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل گیارھویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا۔

ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے باب المندب سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پیش رفت سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز کی طرح عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نیا حساس محاذ بن سکتا ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تاجر اب دونوں اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

ان خدشات کے باعث چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے جانے والے تین آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے یمن کے ساحل کے بجائے نہر سویز کا رخ کر لیا، جبکہ ایشیائی ریفائنریز بھی سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل کو نہر سویز اور افریقا کے راستے منگوانے کے متبادل انتظامات کر رہی ہیں۔

امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافہ جبکہ پٹرول کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی نظریں اب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔