غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کی سخت نگرانی کی جائے، سینیٹ کمیٹی کا مطالبہ
- 2022 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ تقریباً 40 کھرب روپے تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 90 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، سیف اللہ ابڑو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ملک پر 90 کھرب روپے کے قرضوں اور واجبات کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی سخت نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں غیر ملکی مالی معاونت سے جاری سڑکوں، سیلاب سے بحالی اور آبپاشی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قرضوں میں اضافے، منصوبوں کی ترجیحات اور ٹھیکوں کی تقسیم سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے گئے۔
چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ 2022 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ تقریباً 40 کھرب روپے تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 90 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قرضوں میں یہ تیز رفتار اضافہ معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے اور قرضوں کو امداد سمجھنے کے بجائے ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے سڑکوں اور سیلاب سے بحالی کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ ارکانِ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں منصوبوں کی تقسیم کن بنیادوں پر کی گئی۔
کمیٹی کے ارکان نے نشاندہی کی کہ مردان، جو شدید متاثرہ اضلاع میں شامل نہیں تھا، وہاں سب سے زیادہ 16 سڑکوں کے منصوبے دیے گئے، جبکہ اپر دیر، لوئر دیر اور چترال جیسے زیادہ متاثرہ علاقوں کو نسبتاً کم منصوبے ملے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ دیر میں شدید سیلابی نقصان کے باوجود صرف 12 کلومیٹر سڑک تعمیر کی گئی۔
سینیٹر ہدایت اللہ نے پشاور میں 9 سڑکوں کی تعمیر پر بھی سوال اٹھایا، حالانکہ یہ ضلع سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شامل نہیں تھا، اور منصوبوں کے انتخاب کا طریقہ کار طلب کیا۔
حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں زیادہ تر ضلعی سڑکوں کے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں 63 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ مکمل یا زیرِ تعمیر سڑکوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 488 کلومیٹر ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے 387 ملین ڈالر مالیت کے آبی شعبے کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ عالمی بینک کی مالی معاونت سے 295 ملین ڈالر کے اضافی منصوبے بھی زیرِ تکمیل ہیں۔ اے ڈی بی کے تعاون سے جاری فلڈ ایمرجنسی بحالی منصوبہ جون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس میں سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسمیشن منصوبے میں عالمی بینک کے مقامی نمائندے کی مبینہ مداخلت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ عالمی بینک کا کردار صرف مالی معاونت فراہم کرنے اور قرضوں کی واپسی تک محدود ہونا چاہیے، منصوبوں پر عمل درآمد کا اختیار پاکستانی اداروں کے پاس ہے۔
حکام نے بتایا کہ منصوبے کی لاگت دگنی ہوچکی ہے۔ کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ عالمی بینک سے مذاکرات کرکے معاملہ حل کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ منصوبوں پر عمل درآمد کا اختیار پاکستانی اداروں کے پاس ہی رہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026