پاکستان

کارگو طیارہ حادثے کے شکار خاندانوں کا بلیک باکسز کی تلاش کے لیے عالمی امداد کا مطالبہ

  • 7 جولائی کو ہونے والے حادثے کے کچھ ہی دیر بعد کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کا ملبہ برآمد کر لیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ ہفتے پاکستان کے قریب بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہونے والے بوئنگ 737 کارگو طیارے کے عملے کے پانچ ارکان کے لواحقین نے حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر بلیک باکسز کی تلاش کا مطالبہ کیا ہے۔

اگرچہ 7 جولائی کو ہونے والے اس حادثے کے فوراً بعد کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کا ملبہ برآمد کر لیا گیا تھا لیکن اس علاقے میں سمندر کی گہرائی تقریباً 3,000 میٹر (9,800 فٹ) ہے۔ ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے گہرے پانی سے بلیک باکسز تلاش کرنے کے لیے ایک انتہائی مہنگی اور جدید ترین زیرِ آب مہم کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے ناگزیر طور پر غیر ملکی مدد درکار ہوگی۔ بالکل اسی طرح جیسے 2009 میں ایئر فرانس کی فلائٹ 447 کے حادثے کے وقت ہوا تھا۔

اس 27 سال پرانے طیارے میں نصب بیکنز (سگنل بھیجنے والے آلات) صرف 30 دنوں تک سگنل بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بلیک باکسز کی بازیابی سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا حادثے سے تھوڑی دیر قبل رپورٹ ہونے والا نیویگیشن سسٹم کا مسئلہ اسی پرزے کی خرابی کا نتیجہ تھا جسے پرواز سے قبل تبدیل کیا گیا تھا۔

حکومتِ پاکستان نے گزشتہ ایک ہفتے سے اس سرچ آپریشن کے حوالے سے کوئی عوامی اپ ڈیٹ جاری نہیں کی، جبکہ زیرِ آب تلاش کی مہارت رکھنے والی ایک بڑی کمپنی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں تاحال پاکستان کی جانب سے مدد کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔تباہ ہونے والے طیارے کے کپتان رضوان ادریس کے بڑے بیٹے یاشب رضوان نے رائٹرز کو بتایا کہ تلاش کا عمل ہر حال میں جاری رہنا چاہیے اور مقامی یا بین الاقوامی سطح پر جو بھی وسائل دستیاب ہوں، انہیں بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ ہمارے لیے ایک شفاف تحقیقات کا ہونا سب سے اہم ہے۔

طیارے کے انجینئر محمد عارف صدیقی کے بیٹے عبدالرافع صدیقی نے بھی ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی مدد حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں خاندان لاشیں نہ ملنے پر مایوس ہونے کے بعد عملے کے ارکان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کر چکے ہیں۔پاکستانی حکومت نے تاحال اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ آیا وہ اس مہم کے لیے غیر ملکی امداد طلب کرے گی یا نہیں۔ کے ٹو ایئرویز جس کا واحد طیارہ اس حادثے کا شکار ہوا نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

نیویگیشن سسٹم کی خرابی کا معاملہ

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق امارات کی ریاست شارجہ سے کراچی آتے ہوئے پائلٹس نے پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ مقامی ایئر ٹریفک کنٹرول نے طیارے کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی، لیکن محض تین منٹ بعد ہی طیارہ تیزی سے نیچے گرنے لگا اور اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ طیارہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 5,000 فٹ نیچے گرا، پھر اگلے 30 سیکنڈ میں 6,000 فٹ اوپر گیا اور اس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سے انتہائی خوفناک انداز میں سیدھا سمندر کی طرف غوطہ کھا گیا۔

شریک پائلٹ فیصل جتوئی کے سسر غلام نبی نے بتایا کہ پرواز سے قبل یہ طیارہ تقریباً 10 دن تک شارجہ میں کھڑا رہا جہاں پائلٹس امریکہ سے آنے والے ایک متبادل پرزے کا انتظار کر رہے تھے۔کپتان کے بیٹے یاشب رضوان کے مطابق طیارے کا ایک انرشیل ریفرنس یونٹ (آئی آر یو) جو کاک پٹ کی اسکرینز کو طیارے کی پوزیشن، رفتار اور سمت کی معلومات فراہم کرتا ہے شارجہ میں تبدیل کیا گیا تھا۔امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے سابق رکن جان گوگلیا کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے آئی آر یو میں مسئلہ ہو تو آپ کاک پٹ کے آلات پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت سمندر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے، جہاں باہر کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو، پائلٹس کے لیے طیارے کی درست سمت کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

طیاروں کے حادثات عموماً متعدد وجوہات کا مجموعہ ہوتے ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پرزے کی تبدیلی کا حادثے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ تاہم ماضی میں 2007 میں انڈونیشیا کے ایڈم ایئر حادثے میں بھی اسی سسٹم کی خرابی سامنے آئی تھی، جہاں پائلٹس آلات کی غلط معلومات کو درست کرنے میں اتنے الجھ گئے کہ انہیں طیارے کے جھکاؤ کا احساس نہ ہوا اور وہ کنٹرول کھو بیٹھے۔ اس حادثے میں تمام 102 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور امریکی بحریہ کی مدد سے کئی ماہ کی محنت اور کروڑوں ڈالرز کے خرچ کے بعد ہی سمندر کی تہہ سے بلیک باکس نکالا جا سکا تھا۔

امریکی ہوا بازی کے ماہر ٹوڈ کرٹس نے ایک پوڈ کاسٹ میں رائے دی کہ پاکستان کی جانب سے اس سطح کا مہنگا آپریشن شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ یہ ایک پرانا کارگو طیارہ تھا نہ کہ کوئی جدید مسافر بردار طیارہ، جب تک کہ تحقیقات کے لیے کوئی انتہائی غیر معمولی اور ٹھوس وجہ سامنے نہ آ جائے۔