بحیرہ احمر کی بندش کا خدشہ، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.05 ڈالر یا تقریباً 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور ایران کی جانب سے حوثی تحریک کو بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.05 ڈالر یا تقریباً 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.03 ڈالر یا 1.3 فیصد بڑھ کر 79.98 ڈالر فی بیرل ہوگیا، یوں گزشتہ سیشن کے نقصانات پورے ہوگئے۔
دونوں عالمی بینچ مارک اس ہفتے تقریباً 12 فیصد مہنگے ہوچکے ہیں۔ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اور ڈبلیو ٹی آئی مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے۔
گزشتہ ماہ جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے بدھ کو ایک ہی روز ایران پر فضائی حملوں کی دو بڑی لہریں چلائیں، جن کا زیادہ تر ہدف ایران کے جنوبی ساحلی علاقے تھے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی حملوں کی نئی لہر شروع کی۔
ادھر ایران نے اردن میں حال ہی میں توسیع کیے گئے فضائی اڈے سمیت خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین ذرائع نے بتایا کہ تہران نے اپنے اتحادی حوثیوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو بحیرہ احمر سے تیل کی برآمدات کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی کی سلامتی اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے، اور اگر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تیل کی رسد مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
ادھر آئی جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 70 ڈالر کے وسط کی اہم تکنیکی سطح سے اوپر برقرار رہا تو اس کی قیمت 80 ڈالر کے وسط تک پہنچ سکتی ہے۔