اسٹاک ایکسچینج میں بھرپور خریداری، 100 انڈیکس میں 1.6 فیصد اضافہ
- بینچ مارک انڈیکس 178,123.56 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا جس کی بدولت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1.6 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 178,431.73 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔
مارکیٹ میں دن بھر تیزی کا غلبہ برقرار رہا، اس دوران وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ بھی دیکھنے میں آئی تاہم اختتامی اوقات میں انڈیکس اپنی سیشن کی بلند ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتا رہا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کا کوئی بڑا دباؤ نہیں تھا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,837.78 پوائنٹس یا 1.62 فیصد اضافے سے 178,123.56 پر بند ہوا۔
سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد جغرافیائی سیاسی تناؤ کے حوالے سے خدشات میں کمی اور بلیو چِپ کمپنیوں کے شیئرز میں نئی دلچسپی نے انڈیکس کو رواں ہفتے کے آغاز میں ہونے والے نقصانات کا ایک بڑا حصہ بحال کرنے میں مدد فراہم کی۔ یہ بات بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں بتائی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انڈیکس میں حصہ ڈالنے کے محاذ پر ہیوی ویٹ (بڑی) کمپنیوں کے شیئرز جیسے کہ ایچ یو بی سی ، ایم ای بی ایل، یوبی ایل، اینگرو اور لک سب سے زیادہ نمایاں رہے، جنہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک انڈیکس کے مجموعی اضافے میں تقریباً 967 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
یاد رہے کہ بدھ کواسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی دیکھنے میں آئی کیونکہ گزشتہ سیشن میں ہونے والی شدید فروخت کے بعد بارگین ہنٹرز (کم قیمتوں پر خریداری کرنے والے سرمایہ کار) مارکیٹ میں واپس آ گئے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار بدستور محتاط رہے۔
بینچ مارک 100 انڈیکس 1,766.97 پوائنٹس یا 1.02 فیصد اضافے سے 175,285.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی کیونکہ چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں صنعت کی اہم کمپنی ٹی ایس ایم سی کے نتائج کے اعلان سے قبل مندی رہی۔ دوسری جانب امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار میں معمولی اضافے کی رپورٹ کے بعد بانڈز مارکیٹ کو فائدہ ہوا جس سے شرح سود میں فوری اضافے کا خطرہ کم ہوگیا ہے۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایران پر حملے جاری رکھے جبکہ تہران نے امریکہ کے ساتھ اسے بقا کی جنگ قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا انتباہ دیا۔ اس صورتحال کے باعث برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 85.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جس سے رواں ہفتے مجموعی اضافہ 12 فیصد ہوگیا۔
سرمایہ کاروں کی نظریں دنیا کی جدید اے آئی چپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے سہ ماہی مالی نتائج پر مرکوز ہیں۔ توقع ہے کہ کمپنی مسلسل پانچویں سہ ماہی میں ریکارڈ منافع حاصل کرے گی جبکہ اپریل تا جون اس کا خالص منافع 59 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔
تاہم سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے کیونکہ ہائی ٹیک کمپیوٹر چپس کی تیاری کے لیے ضروری آلات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اے ایس ایم ایل کے حصص 2026 کی فروخت کی پیش گوئی بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے اعلان کے باوجود 0.4 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے۔
فروخت کا یہ دباؤ ایشیائی مارکیٹوں تک بھی پھیل گیا۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 1.7 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6.3 فیصد نیچے آ گیا۔ اس کمی کی بڑی وجہ سام سنگ کے حصص میں 8 فیصد اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں 11 فیصد کی گراوٹ رہی۔
دوسری جانب جاپان کا نکئی انڈیکس 3 فیصد گرگیا جبکہ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ 0.5 فیصد نیچے رہی، تاہم چین کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر 3 پیسے کی کمی کے بعد 277.97 روپے پر بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس میں حصص کے کاروبار کا حجم بڑھ کر 736.95 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 583.80 ملین شیئرز تھا۔
شیئرز کی مالیت بھی بڑھ کر 34.61 ارب روپے ہو گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 26.04 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔
لوٹے کیمیکل 70.09 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہونے والی کمپنی رہی، جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز 52.57 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور اتفاق آئرن انڈسٹریز 35.22 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں لین دین ہوا، جن میں سے 342 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 129 کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔