ٹرمپ کی نئی ناکہ بندی، ایران نے اہم بحری گزرگاہیں بند کرنے کی دھمکی دے دی
- علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں ہوگی، آئی آر جی سی
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے دوبارہ بحری ناکہ بندی عائد کیے جانے کے بعد وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں کو بھی بند کردیں گے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اشارہ دے رہا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں کو استعمال کرتے ہوئے باب المندب کی اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرسکتا ہے جو بحیرۂ احمر تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف واشنگٹن کے خلاف محاذ مزید وسیع ہوسکتا ہے بلکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے دو اہم ترین بحری راستے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ تنگ آبی گزرگاہ بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے جہاں سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اور عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران کی پریس ٹی وی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملے جاری رکھے تو ان کا گروپ آبنائے باب المندب بند کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ بند ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
حوثی فورسز نے پیر کو سعودی عرب پر میزائل داغے جس کی وجہ انہوں نے مملکت پر اپنے زیرِ کنٹرول ایک ائرپورٹ پر بمباری کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کارروائی نے سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے درمیان جاری تنازع میں چار سال سے جاری جنگ بندی کو توڑ دیا ہے۔
حوثی پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کا گلا گھونٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے ایک روز بعد عالمی بحری تجارت کو یہ نیا خطرہ سامنے آیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایران کی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے مقصد سے تازہ فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے کے دوران سات تجارتی جہازوں پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں عملے کے تقریباً ایک درجن ارکان ہلاک، لاپتہ یا زخمی ہو گئے ہیں۔
امریکی فوج نے منگل کی رات دیر گئے بتایا کہ اس نے آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ فضائی حملوں کا یہ سلسلہ سات گھنٹے تک جاری رہا۔
امریکہ کے مظالم کا خاتمہ
آئی آر جی سی نے بدھ کو کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک کہ ان کے بقول امریکہ کے مظالم کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں واقع امریکی پانچویں بیڑے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس، ایندھن اور فوجی سازوسامان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں امریکی لاجسٹکس کی تنصیب کو آگ لگا کر تباہ کردیا اور ان کی فضائیہ نے اردن میں واقع ازرق کے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے کچھ حملے اردن کی سرزمین پر موجود اڈوں سے کیے گئے تھے۔
بدھ کو کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی حملوں میں نشانہ بننے والی ایک جگہ پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ آگ اسی جگہ لگی تھی جس کا ذکر آئی آر جی سی کے بیان میں کیا گیا ہے۔
اردن کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کو سویرے ایرانی علاقے سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر مار گرایا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی گزشتہ ہفتے دوبارہ بھڑک اٹھی جس سے جون میں ہونے والی وہ کمزور جنگ بندی ختم ہو گئی جو کئی مہینوں کی لڑائی کے بعد طے پائی تھی جس میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔
ٹرمپ کی ایران کے توانائی اہداف پر حملوں کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو دھمکی دی کہ اگر تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع نہ کیے تو وہ اگلے ہفتے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ میں توانائی اہداف کو آخر کے لیے محفوظ رکھوں گا لیکن حتمی طور پر ہم توانائی کے اہداف پر حملہ کریں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کار اپنے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں تاکہ انہیں یہ پیغام دیا جا سکے کہ بہتر ہے کہ آپ کوئی معاہدہ کر لیں۔
کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی پیر کو ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا خیال پیش کیا تھا جس پر اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی اور دیگر حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
منگل کو انہوں نے اس خیال کو ترک کر دیا اور بغیر کوئی تفصیلات دیے کہا کہ اس کے بجائے وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کی کوشش کریں گے۔
بدھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ منگل کو یہ 2 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں کیونکہ تازہ ترین حملوں نے آبنائے ہرمز میں سپلائی کے تعطل کو مزید گہرا کردیا ہے۔