کیش لیس معیشت پائیدار ترقی اور شفافیت کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم
- نقدی سے پاک معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس
ڈیجیٹل لین دین میں تیزی سے اضافے اور آن لائن ادائیگی پلیٹ فارمز سے لاکھوں نئے صارفین کے منسلک ہونے کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو متعلقہ حکام کو ملک کو نقدی سے پاک (کیش لیس) معیشت کی جانب منتقل کرنے کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی پائیدار ترقی اور اقتصادی شفافیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
نقدی سے پاک معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی جانب منتقل کرنے میں اقتصادی ٹیم کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔
انہوں نے خاص طور پر گزشتہ سال کے دوران کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد اضافے کو قابلِ ستائش قرار دیا اور اقتصادی ٹیم کو ہدایت کی کہ مزید کاروباری اداروں کو کیو آر پر مبنی ادائیگیوں کے نظام اپنانے کی ترغیب دینے کے لیے آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی معیشت کو کیش لیس نظام کی طرف منتقل کرنا پائیدار اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوگا اور شفافیت کو فروغ دے گا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ایک سال کے دوران 95 ملین سے بڑھ کر 137 ملین ہوگئی۔
وزیراعظم نے اس پیش رفت کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کریں۔
انہوں نے یہ ہدایت بھی دی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے تاکہ کارکردگی، شفافیت اور بیرونی مالی آمدن کی دستاویزی شکل کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران ملک میں 11.9 ارب ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیے گئے، جو الیکٹرانک ادائیگیوں کے ذرائع کے تیزی سے فروغ کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال موصول ہونے والی 92 فیصد ترسیلاتِ زر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے پراسیس کی گئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت تقریباً ایک کروڑ مستحقین کے لیے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔
وزیراعظم نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مستحق شہریوں کے لیے شفاف، تیز رفتار اور زیادہ سہل نظام قرار دیا۔
حکام نے مزید بریفنگ دی کہ نادرا میں 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔
پیش رفت کے جائزے میں راست فوری ادائیگی نظام اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے رکن بینکوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے اہداف مقرر کیے ہیں، جن میں راست نظام کے استعمال میں اضافہ بھی شامل ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کی کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت کے حوالے سے ایک تھرڈ پارٹی توثیقی عمل جاری ہے، جس کی حتمی رپورٹ اور سفارشات نومبر 2026 میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں تاکہ شہری، کاروباری ادارے اور سرکاری پروگرام محفوظ، مؤثر اور جدید ادائیگی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026