تیل کی منڈی کا عارضی سکون
- تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں، اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں نے مارکیٹ کو یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز اگرچہ کھلی ہے، لیکن اب بھی محفوظ نہیں۔
ایک مختصر لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے بدترین مرحلہ گزر چکا ہو۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی تھی، پھنسے ہوئے آئل ٹینکر دوبارہ سفر شروع کر رہے تھے، اور تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کی جانب واپس آ رہی تھیں۔ جون کے اختتام تک مارکیٹ کی توجہ قلت پر نہیں رہی تھی۔ اس کے بجائے، تاجر اس خدشے میں مبتلا ہونے لگے تھے کہ شاید ایک ہی وقت میں بہت زیادہ تیل مارکیٹ میں آ جائے۔
لیکن یہ سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔
طویل مدت تک سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات فوری طور پر کم ہو رہے تھے۔ 29 جون کو برینٹ خام تیل تقریباً 73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو جنگ کے دوران بننے والی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی کے بعد کی قیمت تھی۔ خلیجی ممالک کی پیداوار بحال ہو رہی تھی، کارگو دوبارہ مارکیٹ میں آ رہے تھے، اور خریدار پہلے ہی متبادل سپلائی کا انتظام کر چکے تھے۔ جولائی کے آغاز میں قیمتوں میں مزید کمی آئی کیونکہ مارکیٹ کی توجہ بڑھتی ہوئی سپلائی اور کمزور طلب کی جانب منتقل ہو گئی۔ تیل کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کے بجائے، تیل کی فراوانی کا امکان زیادہ قابلِ یقین نظر آنے لگا۔
پھر جغرافیائی سیاست نے دوبارہ منظر تبدیل کردیا۔
تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں، اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں نے مارکیٹ کو یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز اگرچہ کھلی ہے، لیکن اب بھی محفوظ نہیں۔ برینٹ خام تیل تیزی سے دوبارہ 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جو 29 جون کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد اضافہ تھا۔
یہ اچانک تبدیلی طلب میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کے باعث رونما ہوئی۔ سپلائی میں ایک اور ممکنہ رکاوٹ کا خطرہ دوبارہ پیدا ہو گیا، اور تاجروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کا وہ اضافی پریمیم دوبارہ قیمتوں میں شامل کر دیا جو کچھ ہی عرصہ پہلے ختم ہو گیا تھا۔
مارکیٹ اب اس سادہ سوال سے نہیں نمٹ رہی کہ آیا آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند۔ اب صورتحال ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
آئل ٹینکر سفر کر رہے ہیں، لیکن جہازوں کے مالکان اب بھی محتاط ہیں۔ انشورنس اور سکیورٹی کے اخراجات بلند ہیں، جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نقل و حمل اب بھی کمزور ہے۔ تیل آبنائے ہرمز سے گزر تو سکتا ہے، لیکن اس رفتار، اعتماد اور پیش گوئی کے ساتھ نہیں جس طرح تنازع سے پہلے گزرتا تھا۔
سپلائی کی بحالی بھی یکساں نہیں ہے۔
خلیجی ممالک میں خام تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے فوری قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ تاہم خام تیل پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ خطے کی ریفائنریاں مکمل بحالی میں زیادہ وقت لے رہی ہیں، جبکہ ڈیزل، جیٹ فیول، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اب بھی معمول سے کم ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں نسبتاً آرام دہ سطح پر دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن ریفائن شدہ ایندھن کی عالمی منڈی اب بھی دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ وہ صرف خام تیل کی عالمی قیمتوں سے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ریفائننگ مارجن بلند رہیں تو خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا مطلب لازمی طور پر عوام کو پمپ پر اتنا ہی ریلیف ملنا نہیں ہوتا۔
اسی وجہ سے تیل کی بڑی فراوانی کی جو توقع پہلے پیدا ہو گئی تھی، وہ اب اتنی یقینی نہیں رہی۔
اگر خلیجی ممالک کی پیداوار مسلسل بحال ہوتی رہی، آبنائے ہرمز کھلی رہی، اور عالمی طلب کمزور رہی، تو پھر تیل کی فراوانی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نتیجے کا انحصار خطے کے استحکام پر ہے۔
ہر آئل ٹینکر پر حملہ، ہر فوجی کارروائی، یا آبنائے ہرمز کے بارے میں ہر نئی دھمکی معمول کی صورتحال کی واپسی میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ حتیٰ کہ جب تیل دستیاب بھی ہو، تب بھی اگر خریدار اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں کہ آیا یہ محفوظ طریقے سے ان تک پہنچ سکے گا یا نہیں، تو قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال اتنی اطمینان بخش نہیں رہی جتنی جون کے اختتام پر دکھائی دے رہی تھی۔
تیل کی کم قیمتوں نے درآمدی بل، مہنگائی اور مقامی ایندھن کی قیمتوں میں کچھ ریلیف کی امید پیدا کی تھی۔ اگر برینٹ خام تیل کی قیمت مسلسل 70 ڈالر فی بیرل کے قریب رہتی تو یہ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی جب ملک کے بیرونی مالیاتی حالات اب بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
تیل کی قلت شاید کم ہو گئی ہو، لیکن استحکام ابھی واپس نہیں آیا۔
اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ تیل دستیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ تیل محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ بھی سکتا ہے یا نہیں۔