✕
مارکٹس

آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر بند
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 12 جون کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 16 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، یاد رہے کہ یہ وہ تاریخیں تھیں جب 17 جون کو امریکہ اور ایران نے تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔جی ایم ٹی کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.89 ڈالر یا 3.47 فیصد اضافے کے ساتھ 86.19 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.53 ڈالر یا 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 79.67 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

اے این زی کی تجزیہ کار سونی کماری کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ سلسلہ چند ہفتے بھی نہ چل سکا۔ چنانچہ مارکیٹ اس وقت اسی تشویش کو اپنے کھاتوں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ کشیدگی کا عروج اب گزر چکا ہے لیکن اگر یہ تعطل اسی طرح برقرار رہا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ رہے گا، جس کی وجہ سے قیمتیں 85 سے 90 ڈالر کی حد میں رہیں گی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز رانی کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے 20 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔

یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم شہ رگ ہے، جہاں سے تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی روزانہ کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی جنوبی گزرگاہ میں عمانی سمندری حدود کے اندر دو اماراتی آئل ٹینکروں کو ایران کے دو کروز میزائلوں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔

پیر کو سامنے آنے والے جہاز رانی کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد گر کر گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

سٹی بینک نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ ایرانی حکومت امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے بعد تک مفاہمت کی یادداشت سے دستبردار رہے، ایسی صورتحال میں غالب امکان یہی ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔