کاروبار اور معیشت

کمپٹیشن کمیشن نے پاکستان میں آپریشنز سمیت لوٹے گروپ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی

  • اس لین دین میں جاپان کی لوٹے کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے سنگاپور میں قائم لوٹے کنفیکشنری کے حصص کی خریداری شامل ہے
شائع اپ ڈیٹ

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے انضمام سے قبل کی ایک درخواست منظور کر لی ہے، جس سے جنوبی کوریا کے لوٹے گروپ کے اندر انٹرنل ری سٹرکچرنگ کا راستہ ہموار ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان کی خوراک اور مشروبات کی مارکیٹوں میں مسابقت کے حوالے سے کوئی خدشات نہیں پائے گئے۔

جاری بیان کے مطابق اس لین دین (ٹرانزیکشن) میں جاپان کی لوٹے کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے لوٹے ویل فوڈ کمپنی لمیٹڈ سے سنگاپور میں قائم لوٹے کنفیکشنری (ایس ای اے) پرائیویٹ لمیٹڈ کے حصص کا حصول شامل ہے۔چونکہ ہدف بنائی گئی کمپنی (ٹارگٹ کمپنی) پاکستان کی لوٹے کولسن اور لوٹے اختر بیوریجز میں حصص رکھتی ہے، اس لیے شیئرز کے اس حصول کے لیے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت سی سی پی سے قبل از وقت منظوری حاصل کرنا لازمی تھا۔

کمیشن نے کہا کہ فیز ون کے مسابقتی جائزے کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہ لین دین خالصتاً لوٹے گروپ کے اندر ملکیت کی تبدیلی ہے اور اس سے پاکستان میں مارکیٹ کے ڈھانچے یا مسابقتی ڈائنامکس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

سی سی پی نے نوٹ کیا کہ حصص خریدنے والی کمپنی پاکستان میں کنفیکشنری یا فوڈ کا کاروبار نہیں کرتی۔ نتیجتاً اس لین دین سے نہ تو مارکیٹ کے کنسنٹریشن میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی متعلقہ پروڈکٹ مارکیٹوں میں سے کسی میں کوئی غالب پوزیشن پیدا یا مضبوط ہوگی۔

سی سی پی نے پاستا، گم (ببل گم)، نمکین اسنیکس، میٹھے بسکٹ، کیک اور مشروبات کی مارکیٹوں میں مسابقت کا جائزہ لیا، جس میں پاکستان کو متعلقہ جغرافیائی مارکیٹ قرار دیا گیا۔ جائزے میں پایا گیا کہ اس لین دین کے بعد لوٹے کولسن اور لوٹے اختر بیوریجز کے مارکیٹ شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور مسابقت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔

کمیشن نے کہا کہ اسی مناسبت سے کمیشن نے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 31(1)(d)(i) کے تحت اس حصولِ حصص کی اجازت دے دی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس لین دین کے نتیجے میں مسابقت میں کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہوگی۔

سی سی پی نے کہا کہ یہ فیصلہ انضمام کے مؤثر جائزے کے ذریعے سرمایہ کاری، کارپوریٹ تنظیمِ نو اور کاروبار کی توسیع کو آسان بنانے کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔